انوارالعلوم (جلد 12) — Page 26
۲۶ اردو زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں ۴- ہمارا علمی طبقہ غیر زبانوں میں سوچنے کا عادی ہو گیا ہے- اور اس وجہ سے اس کی تحقیقوتفتیش سے اردو نفع نہیں اٹھا سکتی- ۵- ٹائپ نہ ہونے کے سبب آنکھوں کو اس کے حروف سے وہ موانست نہیں پیدا ہوتی جو ٹائپ پر چھپنے والی زبانوں کے حروف سے ہو جاتی ہے اور اس وجہ سے لوگوں میں شوق تعلیم سرعت سے ترقی نہیں کر سکا اور کتابوں کی اشاعت وسیع پیمانے پر نہیں ہو سکی- انسان بارہ تیرہ قسم کے ٹائپوں کا عادی تو ہو سکتا ہے لیکن ہزاروں قسم کا نہیں اور اردو زبان کے جتنے کاتب ہیں گویا اتنے ہی ٹائپ ہیں جس کی وجہ سے طبیعتوں پر ایک غیرمحسوس بوجھ پڑتا ہے اور تعلیم کا ذوق کم ہو جاتا ہے- ان مشکلات کی وجہ سے اردو کی ترقی کے رستے میں دوسری زبانوں کی نسبت زیادہ مشکلات حائل ہیں مگر میرے نزدیک وہ ایسی نہیں کہ دور نہ کی جا سکیں- اب تک نقص یہی رہا ہے کہ مرض کی تشخیص نہیں کی گئی اور اس کی وجہ سے لازماً علاج بھی صحیح نہیں ہوا- اگر اردو عمر میں اپنی بہنوں سے چھوٹی تھی تو اس کے لئے اس قسم کی غذا کا بھی انتظام ہونا چاہئے تھا- اور اگر وہ شاہی گود سے محروم تھی تو کیوں نہ اسے جمہوریت کی گود میں ڈال دیا گیا جس کی حفاظت شاہی حفاظت سے کسی صورت میں کم نہیں بلکہ اصل بادشاہت تو اس کی ہے- اگر اس کی تربیت کے متعلق اختلاف تھا تو یہ صورت حالات پیدا کرنے کی بجائے کہ جس کا بس چلا وہ اسے اپنے گھر لے گیا وہی کیوں نہ کیا گیا جو حضرت محمد ﷺ نے اس وقت کیا تھا جب خانہ کعبہ کی تعمیرجدید کے موقع پر حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھنے کے سوال پر مختلف قریش خاندانوں میں جھگڑا پیدا ہو گیا تھا اور انہوں نے ایک چادر بچھا دی اور اس پر حجر اسود اپنے ہاتھ سے رکھ کر سب قوموں کے سرداروں سے کہا کہ وہ اس چادر کے کونے پکڑ لیں اور اس طرح سب کے سب اس کے اٹھانے میں برابر کے شریک ہو جائیں- اسی طرح اگر اردو‘ سنسکرت اور عربی کی مشترک تربیت میں دے دی جاتی تو یہ جھگڑا ختم ہو سکتا تھا- ٹائپ کا سوال مختلف قسم کا سوال ہے لیکن اگر مذکورہ بالا باتوں کی طرف توجہ ہوتی تو بہت سے لوگ اسے حل کرنے کی طرف بھی مائل ہو جاتے- اور الحمدللہ کہ اس وقت حیدر آباد میں بہت سے ارباب بصیرت اس کے لئے بھی کوشش کر رہے ہیں- میری ان معروضات کا مطلب یہ ہے کہ اردو کی ترقی کیلئے ایسے ذرائع اختیار کرنے