انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 599

۵۹۹ چھوڑو اور آگے چلو- گودنے والے نے پھر سوئی ماری تو اس نے کہا کیا گودنے لگے ہو- بتایا گیا شیر کابایاں کان- اس نے کہا اسے بھی چھوڑو‘ آگے چلو- اسی طرح جو عضو بھی گودنے لگتا کہہ دیتا اسے رہنے دو- آخر گودنے والے نے کہا- ایک آدھ چیز نہ ہو تب تو شیر رہ سکتا ہے لیکن اگر سب کے سب اعضاء چھوڑ دیئے جائیں تو پھر شیر کہاں رہ سکتا ہے- اسی طرح گو تمدن کی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن اگر ان کا خیال نہ رکھا جائے تو مجموعی طور پر ان کا اخلاق پر بڑا بھاری اثر ہوتا ہے- اصل بات یہ ہے کہ تمام کمزوریاں تمدن سے شروع ہوتی ہیں- مذہب میں بھی اسی سے خرابی پیدا ہوتی ہے- عام لوگوں کو اس سے بحث نہیں ہوتی کہ ملائکہ ہیں یا نہیں‘ اگر ہیں تو کیا چیز ہیں بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاملات کیسے ہیں- غیر مبائعین کو ہی دیکھ لو- جن لوگوں نے مرکز سے علیحدگی اختیار کی‘ ان کا ابتداء میں کوئی مذہبی جھگڑا نہ تھا ان کے مدنظر صرف یہ بات تھی کہ حضرت خلیفہ اولؓ کے بعد کون خلیفہ ہو گا- مجھے یاد ہے- حضرت خلیفہ اول کے وقت جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ انجمن خلیفہ کے ماتحت ہے یا خلیفہ انجمن کے ماتحت تو لوگوں کو باہر سے بلایا گیا- اس دن میں نماز کے انتظار میں اپنے صحن میں اندر ٹہل رہا تھا اور بہت سے لوگ مسجد میں جمع تھے ان میں بہت جوش پایا جاتا تھا اور ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے تھے- میں نے سنا- اس وقت کہا جا رہا تھا حضرت مولوی صاحب جو چاہیں کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ خلیفہ بن جائے- اس وقت میری سمجھ میں نہ آتا کہ بچہ سے کون مراد ہے- پھر معلوم ہوا کہ وہ میرے متعلق کہتے ہیں- اس کے بعد انہوں نے مسائل میں اختلاف پیدا کر لیا- اس طرح شیعہ‘سنی کا جو جھگڑا ہے‘ اس کی وجہ بھی ذاتی معاملات بنے- مسائل میں اختلاف بعد میں پیدا کر لیا گیا- اصل جھگڑا اسی بات سے شروع ہوا کہ حضرت علیؓ کیوں پہلے خلیفہ نہ بنے- غرض چھوٹے چھوٹے تمدنی جھگڑے ہوتے ہیں جو بعد میں بڑی باتیں بن جاتی ہیں اور مذہبی عقائد میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے- ہمیں اس اختلاف سے جماعت کو بچانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے- اس کے لئے میں چند باتیں بیان کرتا ہوں- بیاہ شادی میں قومیت کی پابندیاں دور کرو پہلی بات یہ ہے کہ اب تک ہماری جماعت میں بیاہ شادی کے متعلق قومی