انوارالعلوم (جلد 12) — Page 595
۵۹۵ مسلمانوں کے لئے خطرات پنجاب میں‘ بنگال میں اور صوبہ سرحد میں یہ تحریک زیادہ پائی جاتی ہے اور انہی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے مگر مسلمان اس میں شامل نہیں صرف ہندو ہی اس میں حصہ لے رہے ہیں- اس کے معنی کیا ہیں یہ کہ مسلمان کو ڈرایا جا رہا ہے کہ دیکھو جب انگریزوں سے ہم یہ سلوک کر رہے ہیں جو ہر قسم کی طاقت رکھتے اور ہندوستان میں حکمران ہیں تو تمہاری کیا حقیقت ہے کہ ہندوؤں کے مقابلہ میں ٹھہر سکو- مسلمان چونکہ بے حد غیر منظم اور پراگندہ ہیں اس لئے اس تحریک کے خطرات مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ ہیں بہ نسبت انگریزوں کے اس وجہ سے مسلمانوں کے لئے سیاسی لحاظ سے بھی اس تحریک کا مقابلہ کرنا ضروری ہے اور مذہبی لحاظ سے اس سے بھی زیادہ ضروری ہے- ہماری جماعت اس لئے کھڑی ہوئی ہے کہ شرارت کو دور کرے خواہ کوئی شرارت کرے‘ انگریز کرے یا ہندو- کانگرسی اور تحریک تشدّد میں نے قتل و غارت کی اس خطرناک تحریک کے متعلق بڑا مطالعہ کیا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ کئی کانگرسی اس میں شامل ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے روپیہ کانگرس مہیا کرتی ہے بحیثیت جماعت نہیں بلکہ ذمہ وار کانگرسی افراد روپیہ سے مدد کرتے ہیں- قتل و خونریزی کے حادثات کے متعلق جب بھی کانگرسیوں کی طرف سے نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے تو دو رخی طریق اختیار کیا جاتا ہے- بے شک یہ کہا جاتا ہے کہ کانگرس تشدد کو پسند نہیں کرتی لیکن دوسری طرف تشدد کا ارتکاب کر کے سزا پانے والوں کو قوم کے لئے قربانی کرنے والے قرار دیا جاتا ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان پر رحم کرنا چاہئے- لیکن اگر ان کو رحم کا مستحق سمجھا جاتا ہے تو انگریزوں پر کیوں نہ رحم کرنا چاہئے- جب قاتلوں اور خونریزی کرنے والے کے مقابلہ کے لئے کوئی تجویز کی جاتی ہے تو کانگرس والے بے چین ہو جاتے ہیں حالانکہ ہر وہ شخص جو ہندوستان کا خیرہ خواہ کہلاتا ہے‘ اسے قتل و غارت کرنے والوں کا مقابلہ کرنا چاہئے- کیونکہ جو طریق عمل ایسے لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے اس سے کبھی حکومت نہیں مل سکتی- خونریزی کرنے والوں کی جماعت خونریزی کرنے والوں کو خون بہانے کی عادت ہو جاتی ہے اور وہ خون کرتے جاتے ہیں جس سے ان کے اخلاق مٹ جاتے ہیں اور وہ عقل کی حدود سے گزر کر جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں- یاد رکھنا