انوارالعلوم (جلد 12) — Page 583
۵۸۳ مربعے خریدی تھی اور اس پر بڑا فخر کیا تھا مگر خدا تعالیٰ نے ہمیں سو مربع دے دیا ہے- جماعت احمدیہ کی اقتصادی حالت کوئی احمدی بے کار نہ ہو اب میں جماعت کی اقتصادی حالت کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں- پہلے فردی حالت کو لیتا ہوں- اسلام قطعاً یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی انسان نکما رہے ہر شخص کو کچھ نہ کچھ کام کرنا چاہئے مگر افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے ہزاروں افراد نکمے بیٹھے رہتے ہیں اور جب ان سے پوچھو تو کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دیتے ہیں- کبھی کہتے ہیں کوئی ملازمت نہیں ملتی‘ کبھی کہہ دیتے ہیں تجارت کرنا چاہتے ہیں مگر روپیہ نہیں- حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان تجارت کرنا نہیں جانتے وہ بڑا سرمایہ چاہتے ہیں- نہ انہیں وہ مل سکتا ہے اور نہ کام کر سکتے ہیں- لیکن ہندو تھوڑے سے تھوڑے سرمایہ سے تجارت شروع کر دیتے ہیں اور پھر کامیابی حاصل کر لیتے ہیں- ہماری جماعت کے لوگوں کو اپنے اس طریق عمل کی اصلاح کرنی چاہئے‘ اپنا رویہ بدلنا چاہئے اور ہر حال میں بے کاری سے بچنا چاہئے- میرے نزدیک بیکار رہنا خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ ایک سال بھی جو بے کار رہا اسے اگر کوئی عمدہ ملازمت مل جائے تو بھی اس میں کامیاب نہ ہو سکے گا کیونکہ بے کاری کی زندگی انسان کو بالکل نکما کر دیتی ہے اور کوئی کام کرنے کی ہمت باقی نہیں چھوڑتی- اس حالت سے بچنے کیلئے چاہئے کہ خواہ کوئی بی- اے ہو یا ایم- اے- ایل- ایل- بی ہو یا بیرسٹر ہو یا ولایت کی کوئی اور ڈگری رکھتا ہو‘ اگر اسے کوئی ملازمت نہیں ملتی یا حسب منشاء کام نہیں ملتا تو وہ معمولی سے معمولی کام حتیٰ کہ ایک جگہ سے مٹی اٹھا کر دوسری جگہ پھینکنا ہی شروع کر دے لیکن بے کار اور نکما ہر گز نہ رہے- اگر وہ اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں لگائے رکھے گا‘ خواہ وہ کام کتنا ہی معمولی ہو تو اس سے امید کی جا سکے گی کہ مفید کام کر سکے گا- پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقہ کے احمدیوں کے متعلق تحقیقات کریں کہ ان میں سے کتنے بے کار ہیں اور پھر انہیں مجبور کریں کہ وہ کوئی نہ کوئی کام کیا کریں- لیکن اگر وہ کوئی کام نہ کر سکیں تو انہیں قادیان بھیج دیا جائے تا کہ یہاں آ کر وہ آنریری کام کریں- جب تک یہ حالت نہ ہو کہ ہماری جماعت کا کوئی انسان بے کار نہ ہو‘ اس وقت تک