انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 582

انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۸۲ بعض اہم اور ضروری امور دور ہونی چاہئیں۔ مجلس شورٹی میں وہی لوگ آنے چاہئیں جن کے تسلیم کردہ فیصلوں پر جماعتیں عمل کرنے کیلئے تیار ہوں۔ خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ہے۔ أَمْرُ هُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ که مگر جماعتیں بجٹ پورا کریں ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے۔ جب رسول یا امام کوئی فیصلہ کر دے تو خواہ اپنی رائے کے خلاف ہی ہو تو بھی مان لینا چاہئے۔ مگر میں نے کبھی مالی معاملات میں نمائندگان مجلس مشاورت کے مشورہ کے خلاف نہیں کیا۔ پس جب وہی بجٹ منظور کیا جاتا ہے جو جماعتوں کے نمائندے پیش کرتے ہیں تو احباب کو چاہئے کہ اپنا اپنا بجٹ پورا کیا کریں۔ اس وقت تک جو بقائے ہیں ، وہ ادا کر دیں اور آئندہ کیلئے باقاعدگی اختیار کریں۔ مشکلات میں جانتا ہوں کہ جماعت کیلئے بھی مجبوری ہے کیونکہ بجٹ تو اتنے ہی رکھے گئے جتنے پہلے پہلے : ہوتے تھے۔ مگر مگر گور گورنمنٹ نے ملازموں ملازموں کی تنخواہیں کم دی ہیں۔ اس کا اثر چندہ کی کمی پر پڑنا لازمی تھا۔ اسی طرح زمینداروں نے جب غلہ بیچا اُس وقت ستا تھا اور جب مہنگا ہوا تو بیٹیوں کے گھر جا چکا تھا اس طرح فائدہ بیٹیوں نے اٹھایا۔ یہ مشکلات ہیں مگر وہ مومن ہی کیا جو مشکلات سے گھبرا جائے اور انہیں دور کرنے میں پوری طاقت نہ صرف کر دے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب سلسلہ کی ایسی حیثیت ہے کہ ضروری ہے ہم ایک مستقل ریز روفنڈ فنڈ جاری کریں۔ رسول کریم اس کے وقت بھی بعض جائدادیں اسلامی کاموں کیلئے وقف کر دی گئی تھیں۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کیا گیا۔ ہمیں بھی ریز رو فنڈ قائم کرنا چاہئے۔ میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور سندھ میں زمین خریدی گئی ہے۔ زمین اعلیٰ درجہ کی ہے وہاں اجناس کے ریٹ بھی اچھے ہیں۔ میں سال کی قسطوں پر ساری قیمت ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تمہیں ہزار روپیہ سلسلہ کی طرف سے داخل کر دیا گیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ یہ کام مفید ثابت ہو گا کیونکہ فورا ہی غیر مبائعین کا اعتراض پہنچا کہ لو آب جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں۔ دراصل میں نے یہ سلسلہ کیلئے بطور ریز روفنڈ زمین خریدی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اس کی آمدنی سے اگلی قسطیں ادا ہو سکیں گی۔ یہ پانچ لاکھ کا سودا ہے جو میں سال میں ادا کرنا ہے ۲۵ ہزار سالانہ قسط کا دینا ہو گا مگر امید کی جاتی ہے کہ تیس چالیس ہزار سالانہ آمدنی ہو سکے گی۔ اس طرح قسطیں بآسانی ادا کی جاسکیں گی اور شائد بعض حالات میں کچھ رقم بچ بھی سکے۔ غیر مبالعین نے ایک زمین چالیس