انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 578

۵۷۸ کنت السواد لناظری فعمی علی الناظر من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر۵؎ میں تو رسول کریم ﷺ کی وفات سے ڈرتا تھا جب آپ فوت ہو گئے تو اب جو چاہے مرے- اس جذبہ کے ماتحت جب کوئی کسی کا جنازہ پڑھتا ہے تو درود پڑھتے وقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ مجھے رسول کریم ﷺ کی وفات کا غم بھولا نہیں وہ ابھی تک تازہ ہے اس لئے جنازہ کی نماز میں رسول کریم ﷺ پر درود پہلے رکھا- پھر ایک اور بات سمجھائی اور وہ یہ کہ جب کوئی مسلمان مرتا ہے تو امت محمدیہ میں کمی آ جاتی ہے اس وقت جنازہ پڑھنے والا کہتا ہے اللھم صل علی محمد خدایا اس کمی کو پورا کر دے- پس مقبرہ بہشتی میں جا کر دعا کرتے وقت رسول کریم ﷺ پر درود پڑھنا اور آپ کو دعا میں شامل کرنا ایک اہم چیز ہے- شعائر اللہ کی زیارت پھر شعائر اللہ کی زیارت بھی ضروری ہے- یہاں کئی ایک شعائر اللہ ہیں- مثلاً یہی علاقہ ہے جہاں جلسہ ہو رہا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رؤیا میں دیکھا کہ شمالی اور مشرقی طرف قادیان بڑھتی بڑھتی دریائے بیاس تک چلی گئی ہے- ادھر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کرتے ہوئے تشریف لائے تو جہاں مدرسہ ہائی کی عمارت ہے اس جگہ کے قریب فرمایا لوگ کہتے ہیں یہاں جن رہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے مجھے جو خبر دی ہے اس کے ماتحت بتاتا ہوں کہ یہاں آبادی ہی آبادی ہوگی- اسی طرح شعائر اللہ میں مسجد مبارک‘ مسجد اقصیٰ‘ منارۃ المسیح شامل ہیں- ان مقامات میں سیر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو شعائر اللہ سمجھ کر جانا چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ ان کی برکات سے مستفیض کرے- منارۃ المسیح کے پاس جب جاؤ تو یہ نہ سمجھو کہ یہ منارہ ہے بلکہ یہ سمجھو کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں مسیح موعود اترا‘ اسی طرح مسجد اقصیٰ میں جب جاؤ تو یہ نہ سمجھو کہ وہ اینٹوں اور چونے کی ایک عمارت ہے بلکہ یہ سمجھو کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے دنیا میں خدا کا نور پھیلا‘ پھر جب مسجد مبارک میں جاؤ تو یہ سمجھو کہ یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمازیں پڑھا کرتے تھے- اسی طرح قادیان کی آبادی کو دیکھو کہ پہلے پرانی آبادی کتنی تھی اور اب کس قدر پھیل چکی ہے اور کس طرح ترقیات ہو رہی ہیں-