انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 569

انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۶۹ بعض اہم اور ضروری امور کیونکہ ہر مضمون کے متعلق آیات یکجا کر دی گئی ہیں۔ اس کتاب سے بہت کچھ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس وقت تک اس کی چند جلدیں شائع ہو چکی ہیں جو بہت خوشخط اور عمدہ ہیں۔ پانچویں سفارش اخبار ایسٹرن ٹائمز کے متعلق ہے۔ میں نے گزشتہ سال پانچویں سفارش کے جلسہ کے موقع پر بھی اس کی طرف توجہ دلائی تھی۔ مسلمانوں کو اپنے انگریزی پریس کو مضبوط کرنے کی بے حد ضرورت ہے مگر مسلمانوں کی بے توجہی سے مسلم - آؤٹ لک تو بند ہو گیا اب ایسٹرن ٹائمز جاری ہے مگر اس کی بھی وہی حالت ہے۔ افسوس ہے کہ مسلمانوں نے ابھی تک یہ بات محسوس نہیں کی کہ علمی طور پر بھی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہندوؤں کے متعلق میں نے دیکھا ہے ان کے اخبارات کو سمجھنے کیلئے خاص ہی دماغ کی ضرورت ہوتی وتی ہے۔ جب کبھی مجھے "ملاپ " یا " پر تاب" دیکھنے کا اتفاق ہوا میں نے دیکھا بعض اوقات ایک فقرہ کو سمجھنے کیلئے کئی کئی منٹ لگتے ہیں۔ پھر جتنی کتابت وغیرہ کی غلطیاں ان اخباروں کے ایک ایک پرچہ میں ہوتی ہیں اتنی مسلمان اخبارات کے ایک مہینہ کے پرچوں میں بھی نہیں ہوتیں۔ مگر باوجود اس کے جس ہندو کو دیکھو اس کے ہاتھ میں ” ملاپ " یا " پر تاب" یا کوئی اور ہندو اخبار ہو گا۔ ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ ابتداء میں ہی تکمیل چاہتے ہیں اور جب تک ان کے نزدیک کوئی کام مکمل نہ ہو اس کی طرف متوجہ ہونا ضروری نہیں سمجھتے۔ میں نے اپنی جماعت میں بھی دیکھا ہے کوئی کام سپرد کرو جب اس کے متعلق پوچھا جائے تو یہی کہا جاتا ہے کہ ابھی مکمل نہیں ہوا حالانکہ انسانی کام کبھی مکمل نہیں ہو سکتے حتی کہ جس بات کو مکمل سمجھ لیا جائے وہ بھی مکمل نہیں ہوتی۔ ایک دفعہ میں نے دعا قبول ہونے کے طریق کے متعلق خطبے پڑھے جب میں آخری خطبہ پڑھ کر آیا تو خیال پیدا ہوا را ہوا کہ شائد اب کوئی طریق باقی نہیں رہ گیا۔ اس دن میں نے گھر آکر سنتیں پڑھیں۔ سنتیں پڑھتے ہوئے قراءت پڑھ کر جب میں رکوع میں گیا تو اتنے سے قلیل وقت میں دو نئے طریق مجھے معلوم ہوئے اس پر مجھے بہت شرم آئی کہ میں نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ تمام طریق ختم ہو گئے بد ظنی سے کام لیا۔ مجھے ایک سیکنڈ میں دو زبر دست طریق بتا دیئے گئے۔ مسلمانوں میں تکمیل کا غلط خیال پایا جاتا ہے۔ کوئی انسان مکمل نہیں اور نہ کسی انسانی کام کو تکمیل حاصل ہے۔ تکمیل صرف اللہ تعالیٰ کیلئے ہی ہے۔ اگر کسی انسان کو مکمل سمجھا جاتا ہے تو وہ بھی نسبتی تکمیل ہے ہم رسول کریم میں سلیم کو کامل انسان سمجھتے ہیں مگر کیا یہ کہتے ہیں کہ