انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 560

انوار العلوم جلد ۱۴ ۵۶۰ مستورات سے خطاب پھر ایک قابل قدر چیز قربانی ہے اگر اپنے حقوق سے فائدہ لینا چاہتی ہو تو قربانیاں کرو نفس کی قربانیاں ، مال کی قربانیاں اپنی خواہشات کی قربانیاں، دوسروں کی خدمت کرو ، خدمت کرنے والا آدمی بڑا ہوتا ہے دو سرے سب چھوٹے ہیں۔ دیکھو اگر یورپ کی کوئی بڑی شہزادی خدمت کرتی ہے ، ہسپتال میں جا کر بیماروں، معذوروں کو دیکھتی ہے، ان کو کچھ دیتی یا پوچھتی ہے تو کتنا بڑا رتبہ پاتی ہے۔ سو تم بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں سے ہو جو اپنے آپ کو خادم اسلام سمجھتے تھے۔ تم بھی ہر قسم کی قربانی کر کے خدمت خلق میں مصروف ہو جاؤ تا که دین و دنیا کی کامیابیاں حاصل کرو۔ آخر میں ضروری نصیحت کرتا ہوں کہ اتحاد کے لئے ایک نظام اور پابندی کی ضرورت ہے۔ عورتوں میں نظام اور پابندی قوانین بالکل نہیں یہ بہت ضروری بات ہے کوشش سے اس پر عامل ہونا چاہئے۔ دیکھو اسلام میں جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا ہے فورا صحابہ کرام نے تعمیل کی۔ پھر ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت رسول کریم میں ہم نے بلند آواز سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ تو سب لوگ جہاں بھی آپ کی آواز پہنچی بیٹھ گئے۔ کسی صحابی نے دوسرے کو ایک راستہ میں غیر مانوس سی جگہ پر بیٹھے دیکھ کر پوچھا۔ یہاں کیوں بیٹھے ہو تو اس نے کہا۔ میں نے رسول اللہ میں کی آواز سنی تو تعمیل ارشاد کے لئے یہیں بیٹھ گیا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ کیا بات ہے میں نے صرف تعمیل ارشاد کی ۔ وہ سو تم بھی یہ ضروری اور نہایت ضروری بات سیکھو کہ نظام اور پابندی قوانین کے لئے ہر ایک حکم ماننا ضروری ہے۔ اس کے بعد میں عورتوں کو دو کام بتاتا ہوں چاہئے کہ کوشش کر کے سوچیں اور مجھے نتیجہ سے اطلاع دیں تاکہ پھر ہم اپنی ساری جماعت میں اس کو رائج کریں۔ اس میں اول تو برقعہ اور پردہ کا سوال ہے۔ شرعی پردہ کے لئے نہ تو وہ پرانا برقعہ کچھ مفید ہوا کیونکہ پردہ کے علاوہ عورت کو تازہ ہوا اور صحت کی بھی ضرورت ہے جو اس برقعہ میں نہیں اور نہ اس میں بچہ گود میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ اگر آگے سے ہوا سے کھل جائے یا اٹھانا پڑے تو صرف پچھلا حصہ ہی چھپ سکتا ہے سامنے کا سب لباس نظر آتا ہے اور نئے فیشن کا برقعہ بھی بعض کو پسند نہیں۔ شاید اس لئے بھی کہ اس میں زینت اور خوبصورتی نمایاں پائی جاتی ہے اس لئے بڑی سمجھتے ہیں اور چادر سے بھی وقت ہوتی ہے۔ اس لئے میں سلسلہ کی قابل خواتین اور سلائی کی ماہر بہنوں سے خواہش رکھتا ہوں کہ وہ