انوارالعلوم (جلد 12) — Page 553
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۳ مستورات سے خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب (فرموده ۲۷۔ دسمبر ۱۹۳۲ء بر موقع جلسه سالانه ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ جس طرح اعصاب اور رگوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے اسی طرح عورتوں اور مردوں کے تعاون کے ساتھ دنیا کا نظام چلتا ہے ۔ مگر آج کل کے زمانہ میں ہر طرف جنگ شروع ہے۔ آپس میں نا اتفاقی بڑھ رہی ہے اور پیشگوئی ہے کہ قیامت کے قریب سب نعمتیں مٹادی جائیں گی۔ سب و حوش یعنی غیر تعلیم یافتہ قومیں اور ادنی قو میں ملائی جائیں گی اور ان کو اٹھایا جائے گا تمام بنی آدم مساوات چاہیں گے۔ اس واسطے بنی آدم کے اس حصہ کو بھی یعنی عورتوں کو احساس ہوا کہ ہم بھی مساوات وغیرہ میں حصہ لیں اس لئے عورتوں نے بھی جنگ اور جھگڑوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ہمارے ملک میں مثل مشہور ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے اور اس کا نام بھیڑ چال بھی رکھا ہے۔ گو یہ ملکہ اور جذبہ ہر ایک ملک میں پایا جاتا ہے مگر ہمارے ملک میں یہ بہت زیادہ ہے۔ جس طرح ایک گیدڑ بھاگا جاتا تھا کسی نے پوچھا کہاں بھاگے جاتے ہو ۔ کہنے لگا بادشاہ سلامت نے حکم دیا ہے کہ شہر کے تمام اونٹ پکڑ لئے جائیں۔ اس نے کہا تم تو گیڈر ہو اور حکم اونٹوں کیلئے ہے۔ کہنے لگا شاید گیڈر بھی پکڑے جائیں۔ تو بعینہ یہی طریقہ ہمارے ملک کی عورتوں نے اختیار کیا کہ عیسائی اور ہندو وغیرہ عورتوں کی ریس میں آکر کہہ دیا کہ ہمیں ہمارے حقوق دیئے جائیں حالانکہ مرد کون ہوتے ہیں ان کو حقوق دینے والے ان کو خود خدا تعالیٰ نے حقوق دیئے ہیں۔ قرآن کریم میں جس طرح مسلمان عورت کی تعریف آئی ہے کسی کتاب یا مذہب میں نہیں پائی جاتی۔ عیسائیوں کا مذہب ہے کہ عورت میں روح ہی نہیں۔ دوسرے مذاہب میں کہیں تو عورت کو شیطان کا آلہ اور کہیں شر کی جڑ اور کہیں کچھ