انوارالعلوم (جلد 12) — Page 541
تو ا را معلوم جلد ۱۲ ۵۴۱ رسول کریم سینے کی مدت کی بنیاد رکھی پھر بہت سے فتنے اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ بعض مذاہب میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورت کی روح اور ہے اور مرد کی اور بلکہ بعض عیسائیوں میں تو یہ خیال بھی ہے کہ عورت کی روح ہوتی ہی نہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا مِنْ اَنْفُسِكُمُ الله جیسی روح تمہاری ہے ویسی عورتوں کی ہے۔ اب دیکھو کیسی امن کی تعلیم ہے عام طور پر اس لئے لڑائی جھگڑا ہوتا ہے کہ مرد سمجھتے ہیں عورت میں جس ہوتی ہی نہیں اچھا کھانا پہننا، سیرو تفریح سب اپنے لئے ہے۔ ایسے لوگ عورت کو جب چاہیں مار پیٹ لیں گے اور بلاوجہ اپنی سیادت جتاتے رہیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عورت میں جس نہیں۔ حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے پنجاب میں تو عام طور پر عورت کو جوتی سمجھا جاتا ہے لیکن قرآن کریم نے بتایا کہ مِنْ اَنْفُسِكُمْ تم میں اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔ جس طرح بڑی بات تمہیں بری لگتی ہے اس طرح اس کو بھی بری ، محسوس ہوتی ہے اور اسے بھی تمہاری طرح ہی اچھی باتوں کی خواہش ہے۔ یہ مضمون تو بہت لمبا ہے اور ابھی میں نے اس کا پہلا حصہ ہی بیان کیا ہے مگر چونکہ مغرب کا وقت ہو چکا ہے اس لئے اسے بند کرتا ہوں اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ رسول کریم میں اسلام کی اصلی شان کو دنیا میں پیش کر سکیں۔ تا وہ لوگ بھی جو اس سے اس وقت دور ہیں قریب ہو جائیں اور ساری دنیا اس اخوت میں پروئی جائے جس کے لئے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور وہ لڑائی جھگڑے دور ہو جائیں جنہوں نے ایک آدم کی اولاد کو دو کیمپوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ (الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۳۲ء) T الجمعة : ۲ تا ۵ الشعراء : بخاری کتاب الجنائز باب ما يكره من ه النور : ٣٦ اتخاذ المساجد على القبور له ابن ماجه كتاب النكاح باب من زوج ابنته وهي كارهة بخاري كتاب الحيل باب في النكاح که بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارة A بخارى كتاب الدعوات باب ما يقول اذا تي اهله البقرة : ٢٢٣ الله النحل : ٧٣