انوارالعلوم (جلد 12) — Page 534
انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۳۴ رسول کریم مسلم نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی ہندوستان کی روٹی پکے یا نہ سکے نہ اسے کسی ملک کے نمک سے سروکار ہے اس کے نزدیک سب یکساں ہیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آکر فرمایا الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کے خدا ہی آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے۔ سب چیزیں اس سے طاقت پاتی ہیں۔ وہ جس قانون کو جاری کرتا ہے وہ ایسے سرچشمہ سے نور حاصل کرتا ہے کہ جو لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةِ هو جو نہ شرقی ہے نہ غربی - گویا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آکر بتایا کہ دنیا میں کبھی امن نہیں ہو سکتا جب تک تمدن کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو۔ باقیوں نے کہا ہم تمدنی قوانین بنائیں گے اور اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے تمدنی امور میں دخل دیا ہے۔ اب وہ لوگ دھکے کھا کھا کر وہیں آ رہے ہیں جہاں اسلام لانا چاہتا ہے۔ تعلقات خواہ میاں بیوی ۔ بیوی کے ہوں یا ماں باپ کے بھائی بھائی کے ہوں یا بہن بھائی کے رعایا اور راعی کے ہوں یا مختلف حکومتوں کے سب میں دنیا اسلام کی طرف آرہی ہے۔ پس پہلی بنیاد جو تمدن کے متعلق رسول کریم میں ہم نے رکھی وہ یہ تھی کہ تمدن کی بنیاد الہام پر ہونی چاہئے و الا بعض کو شکوہ رہے گا کہ بعض کی رعایت کی گئی ہے۔ اب صرف یہ سوال رہ جاتا ہے کہ جو تمدن رسول کریم میں ہم نے پیش کیا وہ خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔ لیکن یہ ثابت ہو جانے کے بعد کہ واقعی خدا کی طرف سے ہے اس پر رعایت کا شبہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں جو قوانین لوگ بناتے ہیں ان کے متعلق تو یہ خیال ہو سکتا ہے کہ بنانے والے کو اس کا حق بھی تھا یا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق اس قسم کا اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ یہ قانون فی الواقعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ اسلام نے جملہ تمدنی امور کے متعلق ایسے قوانین بنائے ہیں کہ ان میں کوئی رخنہ یا نقص نہیں نکالا جا سکتا اور ایسی تعلیم دی ہے کہ اس کے ذریعہ انسانوں کا باہم مل کر بیٹھنا ممکن ہو گیا ہے۔ دنیا میں تمدنی امور میں پہلی چیز شادی یعنی میاں بیوی کے تعلقات ہیں اس سے نسلِ انسانی چلتی ہے اس کے متعلق ہی اسلامی تعلیم کو اگر دیکھ لیا جائے تو ہمارے دعوی کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ دنیا میں شادی عام طور پر یا تو زور سے کی جاتی ہے یا محبت ہے۔ زور سے شادی دو قسم کی ہوتی ہے یا تو مرد زبردستی کسی عورت سے شادی کرلے اور یا لڑکی کے والدین زبر دستی جس سے چاہیں شادی کر دیں۔ بابل کی حکومت میں یہی قانون رائج تھا کہ لڑکیاں جب جوان ہو جاتیں تو والدین انہیں