انوارالعلوم (جلد 12) — Page 11
انوار العلوم جلد ۱۲ 11 ینی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت نے اڑ تمہیں سال تک اس پر کیونکر گزارہ کیا۔ نئے یورپی محققین بھی اس سوال کی معقولیت کے قائل ہو گئے ہیں اور اب ان کا یہ خیال ہے کہ " من " کی جو ماہیت بائیبل میں بتائی گئی ہے، اس میں مبالغہ اور تداخل ہو گیا ہے من ان کے نزدیک لچن (LICHEN) کے دانوں کا نام ہے جو قحط کے دنوں میں لوگ کھانے لگتے ہیں۔ بچن ایک بوٹی ہے جو سطح کے اوپر ہی اگ آتی ہے۔ جڑ کے لئے اسے زمین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لئے چٹانوں کی سطح اور درختوں کی چھال پر بھی اگ آتی ہے۔ اس کی بعض قسمیں پتھروں پر اگتی ہیں۔ خصوصاً چونے کے پتھروں پر اور جب اسے پتھر سے الگ کیا جائے۔ تو جوار کے کچلے ہوئے دانہ کے مشابہہ ہو۔ جاتی ہے۔ جب یہ ہوا بوٹی پک جائے تو اس کے چھلکے جڑ سے الگ ہو کر گول شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوا انہیں اڑا کر دور دور لے جاتی ہے۔ هه علمائے نباتات کے نزدیک یہ بوٹی کھمب کی قسموں میں سے ہے۔ اگر نئے یورپی محققین کی رائے تسلیم کر لی جائے تو پھر یہ سوال حل ہو جاتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس کھانے پر گزارہ کس طرح کیا؟ لیکن وہ سوال پھر پیدا ہو جاتا ہے کہ بائیبل کی بیان کردہ من کی ماہیت کے ساتھ اس بوٹی کی کوئی مناسبت نہیں۔ نہ یہ بوئی میٹھی ہوتی ہے نہ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا ہوتا ہے اور نہ یہ بوٹی دو پہر کو پکھل جاتی ہے۔ میرے نزدیک اس سوال کا جواب ہمیں قرآن کریم و حدیث شریف سے استمداد بائیل اور ان کی متعلقہ کتب سے نہیں مل سکتا۔ یورپین محققین خواہ کتنا ہی زور لگائیں ، وہ اس سوال کا پوری طرح جواب نہیں دے سکتے کیونکہ وہ اس سرچشمہ سے دور ہیں جس سے حقیقی علم عطا ہوتا ہے پس اگر ہمیں صحیح جواب کی ضرورت ہے تو ہمیں چاہئے کہ قرآن اور حدیث سے استمداد کریں ۔ قرآن کریم اور حدیث میں من کے متعلق مندرجہ ذیل حقائق بیان ہوئے ہیں۔ (1) أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ الْوَفَّ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوْتُوْا ثُمَّ أَحْيَا هُمْ کیا تجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیں جو اپنے گھروں سے موت کے ڈر سے اس حال میں نکلے تھے کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ مرجاؤ پھر انہیں اس نے زندہ کر دیا۔ :