انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 11

۱۱ نے اڑتیس سال تک اس پر کیونکر گزارہ کیا- نئے یورپی محققین بھی اس سوال کی معقولیت کے قائل ہو گئے ہیں اور اب ان کا یہ خیال ہے کہ ‘’من’‘ کی جو ماہیت بائیبل میں بتائی گئی ہے‘ اس میں مبالغہ اور تداخل ہو گیا ہے من ان کے نزدیک لچن (Lichen)کے دانوں کا نام ہے جو قحط کے دنوں میں لوگ کھانے لگتے ہیں- لچن ایک بوٹی ہے جو سطح کے اوپر ہی اگ آتی ہے- جڑ کے لئے اسے زمین کی ضرورت نہیں ہوتی- اس لئے چٹانوں کی سطح اور درختوں کی چھال پر بھی اگ آتی ہے- اس کی بعض قسمیں پتھروں پر اگتی ہیں- خصوصاً چولے کے پتھروں پر اور جب اسے پتھر سے الگ کیا جائے- تو جوار کے کچلے ہوئے دانہ کے مشابہہ ہو جاتی ہے- جب یہ بوٹی پک جائے تو اس کے چھلکے جڑ سے الگ ہو کر گول شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوا انہیں اڑا کر دور دور لے جاتی ہے-۵؎ علمائے نباتات کے نزدیک یہ بوٹی کھمب کی قسموں میں سے ہے- اگر نئے یورپی محقیقین کی رائے تسلیم کر لی جائے تو پھر یہ سوال حل ہو جاتا ہے کہ بنی اسرا ئیل نے اس کھانے پر گزارہ کس طرح کیا؟ لیکن وہ سوال پھر پیدا ہو جاتا ہے کہ بائیبل کی بیان کردہ من کی ماہیت کے ساتھ اس بوٹی کی کوئی مناسبت نہیں- نہ یہ بوٹی میٹھی ہوتی ہے نہ اس کا مزہ تازہ تیل کا سا ہوتا ہے اور نہ یہ بوٹی دوپہر کو پگھل جاتی ہے- قرآن کریم و حدیث شریف سے استمداد میرے نزدیک اس سوال کا جواب ہمیں بائیبل اور ان کی متعلقہ کتب سے نہیں مل سکتا- یورپین محققین خواہ کتنا ہی زور لگائیں‘ وہ اس سوال کا پوری طرح جواب نہیں دے سکتے کیونکہ وہ اس سرچشمہ سے دور ہیں جس سے حقیقی علم عطا ہوتا ہے پس اگر ہمیں صحیح جواب کی ضرورت ہے تو ہمیں چاہیئے کہ قرآن اور حدیث سے استمداد حاصل کریں- قرآن کریم اور حدیث میں من کے متعلق مندرجہ ذیل حقائق بیان ہوئے ہیں- (۱) الم ترالی الذین خرجوا من دیار ھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم۶؎ کیا تجھے ان لوگوں کا حال معلوم نہیں جو اپنے گھروں سے موت کے ڈر سے اس حال میں نکلے تھے کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ مر جاؤ پھر انہیں اس نے زندہ کر دیا-