انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 532

۵۳۲ نہیں سکتیں- پس رسول کریم ﷺ نے جو اصول الہاماً بتائے یا الہام سے استنباط کر کے بتائے‘ ان کا استحکام عشق کے مطابق ہے اور عشق چونکہ غیر محدود استحکام رکھتا ہے‘ اس لئے ان اصوال کا استحکام بھی غیر محدود ہے اور چونکہ ان کی بنیاد عشق ہے اس لئے کہنا پڑے گا کہ اسلامی اصول کی بنیاد حکمت پر ہے- مثلاً ایک شخص کہتا ہے سیدھے چلتے جاؤ وہاں تمہیں فلاں چیز ملے گی- اب سیدھے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرف بھی انسان منہ کرے آگے سیدھا ہی ہوگا لیکن ایک اور شخص ہے جو ایک راستہ بتاتا ہے اور ساتھ ہی نقشہ دے دیتا ہے کہ اس کے مطابق چلے جاؤ اب اس پر عمل کرنے سے کامیابی ہوگی- لیکن غیر معین بات کبھی کامرانی کا موجب نہیں ہو سکتی- فرض کرو- ایک جرنیل حکم دیتا ہے کہ بہرحال تم نے فلاں جگہ پہنچنا ہے لیکن ایک جرنیل ساتھ ہی مزید راہنمائی کیلئے یہ بھی بتا دیتا ہے کہ پیش آمدہ متوقع مشکلات پر کس طرح قابو پایا جائے نتیجہ یہ ہوگا کہ بہرحال پہنچنے کا حکم دینے والے کی فوج کو جہاں کوئی روک پیش آئے گی مشکل میں پڑ جائے گی لیکن دوسرے کو زیادہ کامیابی ہوگی کیونکہ اس کے احکام حکمت پر مبنی ہوں گے اور دوام ہمیشہ حکمت سے ہی حاصل ہوتا ہے- پس یہ دونوں مضمون مشترک ہیں اس لئے میں تمدن کی بعض باتوں کو لے لیتا ہوں اور ان کے اندر ہی دوسری باتیں بھی آ جائیں گی- تمدن کے معنی ہیں- مدنیت‘ شہریت‘ چند آدمیوں کا مل کر رہنا- جب چند آدمی مل کر رہیں تو کئی قسم کی دقتیں پیش آتی ہیں کیونکہ ہر شخص کی خواہشات دوسرے کے تابع نہیں ہوتیں اور بسا اوقات ٹکرا جاتی ہیں- مثلاً ایک پھول ہے- دو آدمیوں کی خواہش ہے کہ اسے حاصل کریں- اب اگر وہ مل کر رہنا چاہتے ہیں تو کوئی ایسا قانون ہونا چاہئے جو یہ بتائے کہ وہ کون لے- اکٹھے مل کر رہنے کے لئے کوئی اصول مقرر کر کے ان پر چلنا ہوگا- وگرنہ سرپھٹول جاری ہو جائے گی اور اسی غرض سے دنیا نے کئی انتظام کئے ہیں- تمدن کے دوام کیلئے عورت مرد مل کر رہتے ہیں جو میاں بیوی کہلاتے ہیں وہ آئندہ نسل کی ذمہ داری اپنے سر پر لیتے ہیں اسے خاندان کہا جاتا ہے- پھر محلہ والوں کے ساتھ تعلقات کو نظام میں لانے کے لئے اور قوانین کی ضرورت ہے- پھر ان قوانین پر عمل کرانے کے لئے راجہ یا نواب یا بادشاہ کی ضرورت ہوتی ہے- پھر ایک دوسرے سے لین دین‘ شادی غمی‘ موت پیدائش وغیرہ معاملات کے لئے آئین و ضوابط ضروری ہیں اس کے لئے قضاء یا ججوں وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے- گویا ان