انوارالعلوم (جلد 12) — Page 530
۵۳۰ جرات نہ ہوئی- اس پر انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے خوبصورت بچے کو چوما تھا کیونکہ چوٹا بچہ سب کو پیارا لگتا ہے‘ حالانکہ خواجہ صاحب کو اس میں خدا کا جلوہ نظر آتا تھا‘ اس لئے انہوں نے اسے چوما تھا لیکن مجھے چونکہ نظر نہ آیا‘ اس لئے میں نے نہ چوما- اب اس آگ میں مجھے نظر آیا اور میں نے اسے چوم لیا اور یہاں آپ کی اتباع کی لیکن وہاں میری آنکھیں نہ کھلیں‘ اس لئے نہ کی لیکن تم نے ہواؤ ہوس کے ماتحت بچہ کو چوما تھا- تو وقتی طور پر ہر بزرگ پر ایسا وقت آتا ہے کہ بنی نوع انسان کی محبت سے وہ لبریز ہو جاتا ہے مگر محمد رسول اللہ کی محبت وقتی نہ تھی- وہ آپ کی روح اور جسم کا ایک حصہ تھی جس کا پتہ اس سے لگتا ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے لعن اللہ الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مسجدا ۳؎یعنی خدا یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا- گویا آپ کے دل میں تڑپ تھی کہ یہود و نصاریٰ کیوں اپنے لئے جہنم خرید رہے ہیں اور پھر اپنے ماننے والوں کو تنبیہ کی کہ وہ ایسا نہ کریں- گویا سکرات موت کے وقت بھی آپ کے اندر مسلمان اور کفار دونوں کی محبت کا جلوہ تھا- ایک طرف یہود و نصاریٰ کو شرک سے بچانے کا درد تھا اور دوسری طرف یہ درد تھا کہ یہی غلطی میرے ماننے والے بھی نہ کریں- غرض آپ کی ساری زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ بنی نوع انسان کے ہر طبقہ کے لئے ہمدردی رکھتے تھے- آج کے لئے جو مضامین مقرر کئے گئے ہیں وہ دو ہیں ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ نے تمدن کی بنیاد مستحکم اصول پر رکھی اور دوسرے یہ کہ آپ نے احکام کی حکمتیں بیان کیں- یہ دونوں اکٹھے بھی بیان ہو سکتے ہیں اور الگ الگ بھی- لیکن میں اکٹھا ہی بیان کروں گا- میرے نزدیک تو وہ شخص جس کے دل میں انسان کی محبت ہے یعنی بنی نوع انسان کی‘ ایک فرد یا بعض افراد کی نہیں بلکہ سب کے سب کی ہو اس کے کام یقیناً ایسی حکمت پر مبنی ہوں گے جو فائدہ کا موجب ہو- انسان تبھی بے عقلی کا کام کرتا ہے جب وہ اپنے خود ساختہ اصول کو مقدم رکھے اور بنی نوع انسان کے فائدہ کو موخر کرے- ایسا شخص جب بھی کوئی فیصلہ کرے گا ضرور نامعقول باتیں کرے گا- لیکن جو بنی نوع انسان کا فائدہ چاہتا ہے اس کے اصول میں بعض اوقات تغیر و تبدل بھی ہوگا- مثلاً ایک بچہ بیمار ہے طبیب اور ماں باپ دونوں کا اس سے تعلق ہے- اگر ڈاکٹر کی دوائی سے فائدہ نہیں پہنچتا تو ماں باپ چاہیں گے کہ کسی طبیب کو بھی مشورہ