انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 529

انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۲۹ رسول کریم ملی ہم نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی تھا بلکہ ان بد صورت اور بھونڈی شکل کے لوگوں کے لئے جنہیں دیکھ کر گھن آتی تھی۔ جنہیں دیکھ کر روحانی شخص کو متلی ہو جاتی تھی جیسے عقبہ ، شیبہ ابو جہل وغیرہ تو ان کے عشق میں مرا جاتا ہے کہ کیوں ان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ مجنوں کا عشق اس کے مقابلہ میں کیا ہے۔ اس نے اس سے محبت کی جس کی شکل اسے پسند تھی لیکن محمد رسول اللہ کا عشق ان لوگوں سے بھی تھا جن کی روحانی شکل آپ کو ناپسند تھی۔ پس ایسا جذباتی انسان جس کا عشق کسی ایک سے نہیں ساری دنیا سے وابستہ ہے آج ہی کے لوگوں سے نہیں بلکہ آئندہ زمانوں سے بھی ہے جیسا کہ فرمایا وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی محمد رسول اللہ صرف اپنے زمانہ کے لوگوں کو ہی فائدہ پہنچانا نہیں چاہتا بلکہ ان لوگوں کے لئے بھی جو ابھی پیدا نہیں ہوئے مفید بننا چاہتا ہے۔ پس غور کرو جذباتی دنیا میں اس کا وجود کتنا عظیم الشان ہے اس کے عشق کی انتہاہی نہیں۔ وہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی آگ سلگاتا ہے۔ پھر اس سے آسمانوں کی طرف پرواز کرتا ہے اور اس کی روح خدا کے آستانہ پر جاگرتی ہے اور اس کی محبت اللہ تعالٰی کی محبت سے چنگاری لیتی ہے گویا محدود محبت غیر محدود محبت کو کھینچتی ہے اور پھر دنیا میں آتی ہے اور بعینہ اسی طرح جس طرح مشرق سے نکل کر آفتاب کی شعائیں روئے زمین پر پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں اس کی محبت بھی پھیلتی ہے۔ مشرق و مغرب ، گورے اور کالے، خوبصورت اور بد صورت سب کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔ پھر وہ مکان کی حد بندیوں کو توڑتی ہوئی نکل جاتی ہے اور صدیوں کے بعد صدیاں گزرتی ہیں مگر وہ محبت ختم نہیں ہوتی اور نہ ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالی بنی نوع انسان کو دنیا سے اٹھا لے۔ پھر یہ ایک وقت کی بات نہیں یوں تو ہر نیک پر محبت کے ایام کبھی کبھی آتے ہیں۔ حضرت نظام الدین اولیاء کے متعلق آتا ہے کہ آپ ایک دفعہ اپنے شاگردوں کے ساتھ جا رہے تھے راستہ میں ایک خوبصورت لڑکا گزرا آپ نے آگے بڑھ کر اس کا منہ چوم لیا۔ اس پر شاگردوں نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا کہ شاید اس میں جلوہ الہی ہو ۔ ایک شاگرد جو آ۔ جو آپ کے خاص منظورِ نظر تھے انہوں نے ایسا نہ کیا باقیوں نے اس پر چہ میگوئیاں شروع کیں۔ آگے چلے تو ایک بھٹیاری بھٹی میں آگ جلا رہی تھی اور پتوں کی آگ کے شعلے جیسا کہ بہت بلند ہوتے ہیں نکل رہے تھے جو ایک خوبصورت نظارہ پیش کر رہے تھے ۔ آ۔ آپ کھڑے ہو کر اسے دیکھتے رہے پھر مجھکے اور شعلہ کو کو بوسہ بوسہ دیا۔ اس وقت اس شاگرد نے بھی شعلہ کو چوما جس نے لڑکے کو نہیں چوما تھا لیکن باقی شاگر د کھڑے رہے اور کسی کو بندے پر