انوارالعلوم (جلد 12) — Page 513
۵۱۳ الہٰی سلسلہ کے ابتدائی ایام کے کارکنوں کا مقام حالت ہے- اور بعض اوقات کام کرنے والا انسان خود بھی یہ خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ وہ عمر کو ضائع کر رہا ہے لیکن وہ نہیں جانتا ہے کہ کس طرح ایک رنگ میں دنیا کا خالق بن رہا ہے- پس ابتدائی ایام میں کام کرنے والوں کا یہ مستقبل ہے اور یہ ارادہ ہے جو ہمارے کارکنوں کو رکھنا چاہئے- اگر وہ اس کام کی عظمت کو سمجھیں تو ان کا نقطئہ نگاہ ایسا بلند ہو کہ جس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا- مرزا محمد اشرف صاحب نے بھی اس نظام میں کام کیا ہے اور اس میں کام کرنے والوں کی یہ ترقی نہیں کہ وہ مثلاً تیس روپیہ تنخواہ سے شروع ہو کر سو روپیہ پر پہنچ جائیں- یہ بھی بیشک ترقی ہے لیکن اصل چیز کے مقابلہ میں یہ بالکل ہیچ ہے- ہر کارکن خواہ وہ اپنی حیثیت کو سمجھے یا نہ سمجھے بہرحال اگر اس نے اخلاص سے کام کیا ہے تو وہ اس عظیم الشان عمارت میں بمنزلہ بنیاد کے ہے جس کی عظمت کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا- بعض لوگ اپنی کم علمی کے باعث اس سے بھی محروم ہوتے ہیں کہ وہ کسی چیز کا اس قدر بھی اندازہ کر سکیں جس قدر بیان کی جا چکی ہے اور اس لئے بعض لوگ اس عظمت کو بھی محسوس نہیں کر سکتے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں بیان کی گئی ہے- جنت کا جو نقشہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اس کا کسی قدر اندازہ وہ شخص تو کر سکتا ہے جس نے شالا مار باغ یا اور دوسرے فرحت افزاء باغات دیکھے ہیں لیکن عرب کا وہ وحشی جس کا باغ کھجور کے دو درختوں سے زیادہ نہیں ہوتا وہ اس کا اندازہ بھی کرنے لگے تو زیادہ سے زیادہ پانچ دس کھجوروں کے درخت پر جا کر اس کا تخیل ختم ہو جائے گا- اسی طرح بعض لوگ باوجود بنیاد کی اینٹ ہونے کے ظاہری علوم سے بے بہرہ ہونے کے باعث محسوس نہیں کر سکتے کہ ان کی خدمات کے کیا نتائج نکلنے والے ہیں- وہ اس کام کی عظمت کو سمجھتے نہیں یا سمجھ سکتے نہیں کہ وہ کتنے عظیم الشان کام میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے اس دنیا میں اور اگلے جہان میں کس قدر زبردست نتائج نکلنے والے ہیں لیکن بہرحال نہ جاننے سے کام کی عظمت میں فرق نہیں آ سکتا- مرزا محمد اشرف صاحب کو میں نے دیکھا ہے اور ان کی یہ بات مجھے ہمیشہ پسند آئی کہ وہ اس طرح کام کرتے رہے ہیں جس طرح ایک عورت اپنے گھر میں کام کرتی ہے- وہ جانتی ہے کہ اس کے پاس کتنا سرمایہ ہے اور وہ اس سے کس طرح بہتر کام لے سکتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ قلیل سے قلیل رقم میں ہی سب کام نپٹالوں- ان کے اندر ہمیشہ یہی روح کام کرتی رہی