انوارالعلوم (جلد 12) — Page 505
انوار العلوم جلد ۱۲ ۵۰۵ جدید عمارت میں دفاتر صد را مجمن کے افتتاح کی تقریب ہمیں اپنے کام کو ختم نہیں سمجھنا۔ کیونکہ کام کو ختم سمجھ لینے کی وجہ سے انسان مست ہو جاتا ہے۔ عام طور پر لوگ تکالیف اور مصائب سے گھبراتے ہیں مگر ساری کامیابی اور سب ترقی مصائب اور تکالیف سے ہی وابستہ ہوتی ہے۔ اس دنیا میں انبیاء کیلئے بھی تکالیف ہوتی ہیں بلکہ ان کیلئے زیادہ ہوتی ہیں۔ پس ہمارا کام ایسا ہے جو مصائب اور تکالیف کو زیادہ کرنے والا ہے مگر یہی بات جماعت میں زندگی اور بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہے۔ جب دشمن اعتراض کرتا ہے تو غور کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نئے نئے معارف کھلتے ہیں۔ مسلمانوں نے جب تبلیغ اسلام چھوڑ دی تو مست ہو گئے۔ لیکن جب تک تبلیغ میں مصروف رہے۔ نئے نئے معارف کھلتے رہے اور اب بھی تبلیغ میں مصروف رہنے پر کھلتے رہیں گے۔ پس ہماری جماعت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ جب تک دنیا میں ایک آدمی بھی اسلام سے باہر رہتا ہے ہمارا کام ختم نہیں ہوتا۔ یہ سمجھنے سے جرات اور دلیری پیدا ہوتی ہے لیکن جب یہ مقصد سامنے نہ ہو گا تنزل اور تباہی شروع ہو جائے گی۔ عیسائیت کو دیکھ لو ۔ اتنا بودا مذہب ہونے کے باوجود چونکہ عیسائی تحقیق و تدقیق جاری رکھتے ہیں اس لئے ترقی کرتے جاتے ہیں۔ مگر مسلمان ایسا نہیں کرتے۔ کیونکہ انہوں نے تبلیغ چھوڑ دی اس لئے تنزل کرتے گئے۔ عیسائی اپنے مذہب کی جب تبلیغ کرتے ہیں اور ان پر اعتراض ہوتے ہیں تو وہ مسائل پر غور کرتے ہیں لیکن مسلمان نہ دوسروں کے سامنے اسلام پیش کرتے ہیں نہ کوئی اعتراض کرتا ہے اور نہ انہیں غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ رکھا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائیں۔ یعنی تمام دنیا میں تبلیغ پھیلانا ہمارا فرض ہے ۔ سب کارکنوں کو خواہ وہ کسی کام پر ہوں اسے مد نظر رکھنا چاہئے کہ تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچے۔ اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تذکره صفحه ۵۰ ایڈیشن چهارم (الفضل ۳ مئی ۱۹۳۲ء) ترمذی ابواب الرؤيا باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات تذکرہ صفحہ ۳۱۲۔ ایڈیشن چهارم