انوارالعلوم (جلد 12) — Page 503
۵۰۳ یعنی ایسے آدمی کھڑے کئے جائیں گے جو کام کرنے کی اہلیت اور قابلیت رکھیں گے- پھرفرمایا- ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء اس میں چوتھی بات یہ بیان کی کہ آئندہ زمانہ میں بھی ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جو الہام اور وحی سے کھڑے ہوں گے- منالسماء اس لئے فرمایا کہ وحی کئی قسم کی ہوتی ہے- ایک قلبی وحی ہوتی ہے جیسے مکھی کو ہوتی ہے- من السماء کہہ کر اس بات پر زور دیا کہ وہ وحی آسمان سے نازل ہو گی- کئی وحیوں کے سامان دنیا میں پیدا ہوتے ہیں- مگر اس کے متعلق فرمایا- ہم آسمان سے وحی نازل کریں گے- یعنی سلسلہ الہام کثرت سے جاری ہو گا- اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام بھی ظاہر ہے- کسی مجدد کے ماننے والے الہام کے ذریعہ نہیں کھڑے ہوتے- یہ خصوصیت انبیاء کے ہی ماننے والوں کیلئے ہے- غرض اتنی باتیں اس الہام میں بتائی گئی ہیں- یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص کے کام کے درجے ہوتے ہیں اور جب اس کا درجہ بیان کیا جاتا ہے تو انتہائی بیان کیا جاتا ہے- اس الہام میں بھی انتہائی درجہ بیان کیا گیا ہے- فرمایا- نوحی الیھم من السماء ان پر آسمان سے وحی نازل ہوگی مگر وہ بھی ہو سکتے ہیں جنہیں وحی من السماء نہ ہو لیکن وحی منالارض ہو ان کے دلوں میں تحریک ہو اور وہ اس کام کیلئے کھڑے ہو جائیں- غرض اس الہام میں ایک عظیم الشان پیشگوئی کی گئی ہے- اسے مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اس الہام کو لکھنے کیلئے کہا تھا تا کارکنوں کو معلوم ہو کہ جو کام وہ کرتے ہیں وہ وحی الہی کے ماتحت ہے- خواہ وہ وحی ان کو براہ راست نہ ہو بلکہ دوسروں کو ہو- حدیث میں آتا ہے-بعض کو وحی ہوتی ہے اور بعض کیلئے وحی کی جاتی ہے-۲؎ غرض خدا تعالیٰ اپنے خاص کاموں کے لئے لوگوں کو تحریک کیا کرتا ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں یہی بات بیان کی گئی اور میں نے یہ الہام لکھا کر کارکنوں کو توجہ دلائی کہ ان کا کام کتنا مقدس اور کتنا اہم ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے کس قسم کی امید رکھتا ہے- اول تو یہ کہ ان کا کام لغو اور بے فائدہ نہ ہو- بلکہ ایسا ہو جس سے نصرت حاصل ہو- اگر ان کے کام سے سلسلہ کی نصرت نہیں ہوتی تو ایسے کام سے کوئی فائدہ نہیں- پس ان کے کام ایسے نہ ہوں جو دوسروں کیلئے ٹھوکر اور نقصان کا موجب ہوں- دوم یہ کہ وہ اخلاص رکھتے ہوں- سلسلہ کے کام کو سب کاموں پر مقدم کرتے ہوں-