انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 487

انوار العلوم جلد ۱۴ راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس اور مسلمان اصولی تبدیلی کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے کیونکہ اس سے ہماری قومی زندگی پر تبر چل جاتا ہے جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارے مطالبات انگریزوں سے ہیں مسلمانوں کے مطالبات انگریزوں سے ہیں ہندؤوں سے نہیں ہیں کیونکہ اس وقت حکومت انگریزوں کے ہاتھ میں ہے اور قانونا سب سیاسی حقوق ان کے قبضہ میں ہیں۔ پس ہم اپنے حقوق کا مطالبہ انہیں سے کر سکتے ہیں۔ ہمارے ان مطالبات کے شائع ہونے پر انگریزوں نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہندؤوں سے بھی سمجھوتہ کی کوشش کرو۔ اگر ان سے آپ لوگوں کا اتفاق ہو جائے تو اس میں آپ لوگوں کا نفع ہے نقصان نہیں ۔ باوجود اس کے کہ قانونی نقطہ نگاہ سے ہندؤوں کا اس معاملہ میں کوئی دخل نہ تھا ہمارے نمائندوں نے صلح پسندی کے خیال سے ہندؤوں سے سمجھوتہ کی متواتر کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ میں یہ بحث نہیں کرتا کہ کیوں؟ مگر بہر حال مسلمان اس کوشش میں ناکام رہے اور اس قدر مرتبہ ناکام رہے کہ اب کوئی عظمند مسلمانوں کو اس تجربہ کے دہرانے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔ پس جب یہ طریق جو قانونی لحاظ سے درست نہ تھا کیونکہ اختیارات اس وقت برطانیہ کے قبضہ میں ہیں نہ کہ ہندؤوں کے ناکام ثابت ہوا تو اب ہمارے لئے ایک ہی راستہ کھلا ہے یعنی انگریزوں سے جن کے ہاتھ میں حکومت ہے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا اور پیشتر اس کے کہ مرکزی حکومت کی کوئی معین صورت قرار پائے ہمارا فرض ہے کہ ہم برطانیہ سے اپنے حقوق کا تصفیہ چاہیں۔ ہمیں صاف اور واضح طور پر حکومت ہند سے کہہ دینا چاہئے کہ مسلمانوں کے یہ یہ مطالبات ہیں۔ پیشتر اس کے کہ ہم آگے چلیں ہمیں آپ بتا دیں کہ ان میں سے کس قدر مطالبات آپ منظور کر سکتے ہیں اور کس قدر نہیں اور کیوں؟ ہم نے ہندؤوں سے آپ کے آپ کے کہنے کے مطابق فیصلہ چاہا لیکن انہوں نے ہم سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ چونکہ اس وقت گورنمنٹ آپ کے ہاتھ میں ہے اس لئے ان اختیارات کے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ آپ ہی سے ہو سکتا ہے۔ پس ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنا آخری فیصلہ اس بارے میں دیں کیونکہ ہم زیادہ دور تک اندھیرے میں چلنا پسند نہیں کرتے۔ اس امر کے پیش کرنے کے دو طریق ہیں۔ ایک یہ کہ ایک مطالبہ حقوق کے دو طریق آل انڈیا وفد جناب وائسرائے کے سامنے رائے کے سامنے جا کر مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ پیش کرے اور ساتھ ہی درخواست کرے کہ جس عرصہ تک آپ کو یہ