انوارالعلوم (جلد 12) — Page 486
۴۸۶ راؤنڈٹیبل کانفرنس اور مسلمان مسلمانوں کی شرکت انگریزوں کے دل میں یہ خیال ہزگز نہیں پیدا کر سکتی کہ مسلمان ہم سے تعاون کرتے ہیں آؤ ہم بھی ان سے تعاون کریں- یہ شرکت انگریزوں کے دل میں یہ احساس پیدا کرے گی کہ مسلمان بے اصولے ہیں ان کی قوم کی کوئی پالیسی نہیں اور اگر کوئی ہے تو اس پر قائم نہیں رہ سکتے- ایسے بے اصولے لوگوں سے تعاون کوئی مفید نتیجہ نہیں پیدا کر سکتا- آؤ ہم ظاہر میں ان سے فائدہ اٹھائیں اور اس موقع کے منتظر رہیں جب کہ ہندؤوں سے جو اپنے اصول کے پکے ہیں ہمارا مناسب سمجھوتہ ہو سکے- انگریزوں کے ذہن میں اس قسم کے خیالات کا پیدا ہونا یقیناً مسلمانوں کے لئے مضر اور ان کے سیاسی مستقبل کو مخدوش کر دینے والا ہو گا- مسلمانوں کی سیاسی کمزوری یہ نہیں خیال کرنا چاہئے کہ ہماری سیاسی کمزوری سے انگریز واقف نہیں- ایسا خیال ہمیں اس کبوتر کے مشابہ کر دے گا جو بلی کے حملہ کے وقت آنکھیں بند کر لیتا اور خیال کرتا ہے کہ میرے آنکھیں بند کر لینے سے بلی کی بھی آنکھیں بند ہو گئی ہیں- انگریزوں کو حکومت کا لمبا تجربہ ہے اور مختلف اقوام کی کمزوریوں کو خود ان اقوام سے بھی زیادہ سمجھتے ہیں- پس میرے نزدیک ہمارا موجودہ تعاون انگریزوں کے دل پر کبھی بھی اچھا اثر پیدا نہیں کرے گا- وہ ظاہر میں اس سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن دل میں ہمیں نکما اور ناقابل التفات سمجھیں گے- بائیکاٹ کی پالیسی تعاون کے بعد میں بائیکاٹ کی پالیسی کو لیتا ہوں- میں خوب سمجھتاہوں کہ دنیا کے اکثر افراد کو میرے اس خیال سے اختلاف ہے لیکن میں اس امر کا سختی سے یقین رکھتا ہوں کہ بائیکاٹ ننانویں فیصدی جہالت اور اپنی کمزوری کے چھپانے کیلئے ہوتا ہے- وہ ایک سزا تو کہلا سکتا ہے لیکن آلہ اصلاح ہرگز نہیں- ہم جبر سے نہیں بلکہ دلیل سے دوسرے کی اصلاح کر سکتے ہیں- پس بائیکاٹ بطور ایک اصلاحی آلہ کے نہ صرف بیکار ہے بلکہ مضر ہے- اس وجہ سے بائیکاٹ کا بھی میں سختی سے مخالف ہوں- میرے نزدیک نہ صرف اس وقت بلکہ ہمیشہ ہمیں درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہئے اور بائیکاٹ کے طریق کو اصلاحی آلہ کے طور پر کبھی استعمال نہیں کرنا چاہئے- جہاں تک مسلمانوں کے حقوق کا سوال ہے- مسلمانوں کی اکثریت اس کے متعلق متفق ہے- ہم نے اسلامی سادگی سے کام لے کر اقل ترین ضروریات کو مختصر الفاظ میں بیان کر دیا ہے- ان میں خفیف تبدیلی صرف تزئین و تحسین کیلئے تو کی جا سکتی ہے لیکن ان میں کوئی