انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 467

انوار العلوم جلد ۱۳ فضائل القرآن (۴) کیلئے آئے تو انکار نہ کرنا بلکہ وہ ہدایت جو ہم نے تجھے دی ہے اسے ساری دنیا میں پہنچانا۔ ضال کے جو معنی میں نے اس وقت کئے ہیں اس کے خلاف کوئی اور معنی ہو ہی نہیں سکتے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَوَجَدَكَ ضَالاً فَهَدَى - ہم نے تجھے مال پایا اور اس کے نتیجہ میں ہدایت دی۔ اور دوسری طرف فرماتا ہے۔ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ ۸۹ کہ فسق کے نتیجہ میں کبھی ہدایت نہیں ملا کرتی۔ پھر مال کے معنی گمراہ کسی طرح کئے جا سکتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے ۔ وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةً قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ اللهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارُ عِنْدَ اللَّهِ وَ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ۔ 30 جب ان کے پاس کوئی نشان آتا ہے تو وہ کہتے ہیں۔ ہم اسے نہیں مان سکتے۔ جب تک ہمیں ویسا ہی کلام نہ ملے جو رسولوں کو ملا۔ اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے ۔ یہ گناہگار لوگ ہیں۔ ان کو تو ذلت ہی ملے گی۔ اس آیت میں صاف طور پر بتا دیا کہ گناہ کے نتیجہ میں ذلت حاصل ہوتی ہے نہ کہ ہدایت۔ پھر یہ جو کہا جاتا ہے کہ رسول کریم نَعُوذُ ذَنْب اور استغفار کی حقیقت باللہ گناہگار تھے۔ اس کے لئے ذنب اور اِسْتِغْفَار کے الفاظ پیش کئے جاتے ہیں۔ لیکن عام طور پر لوگوں نے اس کے معنی نہیں سمجھے۔ استغفار کے یہ معنی بھی ہوتے ہیں کہ جو مشکلات کسی کے رستہ میں حائل ہوں ان کو ڈھانپ دیا جائے۔ اسی طرح ذنب کے معنی گناہ کے بھی ہوتے ہیں اور غیر ضروری باتوں کے بھی۔ پس غفر کے معنی ڈھانکنے اور ذنب کے معنی زوائد کے ہیں۔ جب رسول کریم میں ایم کے متعلق استغفار کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد آپ کے رستہ کی مشکلات کا دور ہونا ہوتا ہے۔ اور جہاں ذنب کا لفظ آتا ہے وہاں زوائد کا دور کیا جانا مراد ہوتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو سورۃ نساء رکوع ۱۶ میں پہلے جنگ کا ذکر ہے۔ پھر اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔ لَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا - وَاسْتَغْفِرِ الله ان اے محمد رسول اللہ جب ہم حکومت دیں گے تو کچھ لوگ ایسے ہونگے جو دین کی باتوں میں خیانت سے کام لیں گے اور کجی کا راستہ اختیار کریں گے ان سے لڑنے کی طرف توجہ نہ کرنا۔ بلکہ بجائے اس کے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنا کہ ان کی یہ کمزوری