انوارالعلوم (جلد 12) — Page 466
۴۶۶ ربک فترضی تو نے دیکھا ہے کہ تیری ہر گھڑی کو ہم نے پہلی سے اچھا رکھا پھر کیا تمہاری یہ بات ہم رد کر دیں گے کہ تیری قوم ہدایت پا جائے- ہمیں اس خواہش کا بھی علم ہے اور اسے بھی ہم پورا کر دیں گے- پھر فرمایا- الم یجدک یتیما فاوی- ۸۵؎اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو یتیم تھا جب پیدا ہوا- اس یتیمی کے وقت سے خدا نے تم کو اپنی گود میں لے لیا- گویا کوئی وقت خدا کی گود سے باہر آپﷺ پر آیا ہی نہیں- اوی کے معنی ہیں قرب میں جگہ دی- فرمایاالم یجدک یتیما فاوی کیا خدا نے تم کو یتیم پا کر اپنے پاس جگہ نہیں دی- ووجدک ضالا فھدی اب اس کے معنی اگر یہ کئے جائیں کہ تجھے گمراہ پایا پھر ہدایت دی تو یہ معنی یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے- پس اس کے یہی معنی ہیں کہ ہم نے تجھ میں محبت کی تڑپ دیکھی اور دنیا کی ہدایت کا سامان دے دیا- ان معنوں کی تائید ایک اور آیت سے بھی ہوتی ہے- جب حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے تو انہیں گھر والوں نے کہا- تا للہ انک لفی ضللک القدیم۸۶؎ یوسف کی پرانی محبت تیرے دل سے نکلتی ہی نہیں- تو ابھی تک اسی پرانی محبت میں گرفتار ہے- وہ لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کو گمراہ نہیں سمجھتے تھے- بلکہ یوسف علیہ السلام کی محبت میں کھویا ہوا سمجھتے تھے- اس لئے ضلال کا لفظ انہوں نے شدت محبت کے متعلق استعمال کیا- پس ووجدک ضالا فھدی کے یہ معنی ہیں کہ جب تو جوان ہوا اور تیرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ خدا سے ملے بغیر میں آرام نہیں پا سکتا تو ہم نے تجھے فوراً آواز دی کہ آ جائیں موجود ہوں- اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے معلوم ہے کہ جب ہم نے ہدایت دی تو وہ تیرے نفس کے لئے ہی نہ تھی بلکہ ساری دنیا کیلئے تھی- پس لوگ تیرے پاس آئے اور مختلف طبائع کے لوگ آئے پھر ہم نے ان کی کفالت کیلئے قرآن کے ذریعہ تجھے وہ رزق دیا جو ہر فطرت کے انسان کیلئے کافی تھا- پس ووجدک عائلا فاغنی۸۷؎ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے تجھے کثیر العیال پایا اور اپنے فضل سے غنی کر دیا- فاما الیتیم فلا تقھر- واما السائل فلا تنھر۸۸؎ پس اب تو بھی ان پر اتنا بوجھ نہ ڈالنا کہ ان کی طاقتیں کچلی جائیں- نہ اتنی رعایت کرنا کہ بگڑ جائیں- اس آیت میں ضال کے مقابل پر سائل رکھا گیا ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہاں بھی ضال سے مراد خدا کی محبت کے طلبگار کے ہیں- بہرحال فرمایا کہ جب کوئی تمہارے پاس ہدایت حاصل کرنے