انوارالعلوم (جلد 12) — Page 463
انوا را معلوم جلد ۱۴ عموی باطنی فساد کے لئے ۔ جو فساد اعتقاد سے پیدا ہو ۔ فضائل القرآن (۴) فرمایا جو بے جڑ کی بوٹی ہو ۔ اس پر تو جتنے زیادہ دن گذریں اس میں کمزوری آتی جاتی الله ہے۔ اگر محمد رسول اللہ سلیم کا خدا سے تعلق نہ ہوتا تو اس کی جڑ مضبوط نہ ہوتی اور یہ کمزور ہوتا جاتا اور خرابی پیدا ہو جاتی ۔ مگر تم دیکھتے ہو کہ جوں جوں دن گزر رہے ہیں اسے زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل ہو رہی ہے اور یہ دن رات ظاہری اور باطنی طور پر ترقی حاصل کر رہا ہے۔ اگر ضلالت اس کے اندر ہوتی تو اس پر ضلالت والا کلام نازل ہو تا۔ مگر اس پر جو کلام نازل ہوا ہے۔ اسے دیکھو کیا اس میں کوئی بھی ہوائے نفس کا نشان ملتا ہے اگر یہ عادی ہو تا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا۔ لیکن اس کا کلام تو پر کا کلام تو پر شوکت اور قادرانہ قادرانہ کلام پر مشتمل ہے۔ شیطانی تعلقات والا انسان دنیا پر تصرف کیسے حاصل کر سکتا ہے۔ یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورۃ صحی میں بیان کیا ہے۔ فرماتا ہے ۔ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى لے کہ تیری ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہے۔ اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہاں تو کہا کہ تیری ہر پچھلی گھڑی پہلی گھڑی سے اچھی ہوتی ہے لیکن اس سورۃ میں کہہ دیا کہ تو گمراہ تھا۔ آیا پچھلی گھڑی کا پہلی سے اچھی ہونا ضلالت کی دلیل ہوتا ہے؟ سورۃ ابراہیم رکوع ۴ میں آتا ہے ۔ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ۸ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کیسی باتیں بیان کرتا ہے۔ پاک کلمہ کی مثال ایک پاک درخت کی سی ہوتی ہے جس کی جڑ میں بڑی مضبوطی ہوتی ہے۔ اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں۔ اسی طرح صادق کی علامت یہ ہے کہ اس کی تعلیم ترقی کرتی ہے اور اس کی جماعت بڑھتی جاتی ہے۔ اب یہ رسول جو دن رات ترقی کر رہا ہے۔ اگر ضلالت پر ہوتا۔ تو جتنی زیادہ تعلیم بناتا۔ اسی قدر زیادہ نقص ہوتے۔ مگر اس کے کلام کی زیادتی تو اس کی تعلیم کو مکمل بنا رہی ہے۔ وه پھر بتایا ۔ اگر یہ غاوی ہو تا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا۔ مگر اس کا کلام تو ایسا ہے کہ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى - عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ی یہ اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتا بلکہ اس کا پیش کردہ کلام صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے اور اس کو یہ کلام بڑی قوتوں والے خدا نے سکھایا ہے۔ ایک اور آیت بھی اس امر کو حل کرتی ہے۔ سورہ بنی اسرائیل رکوع ۸ میں آتا ہے۔