انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 458

انوار العلوم جلد ۱۳ ۴۵۸ فضائل القرآن (۴) ” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں۔ مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا۔ لیکن جو کچھ سنے گا رہی کہے گا۔ اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔ " اب دیکھو۔ اس میں کتنی علامتیں رسول کریم میں کی بیان کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ آنیوالا نبی ایسی تعلیم دے گا جو مسیح تک کسی نے نہیں دی۔ گویا وہ سب سے بڑھ کر تعلیم دے گا۔ (۲) وہ ساری باتیں کہے گا۔ یعنی کامل تعلیم دے گا۔ اور اس کے بعد اور کوئی اس سے بڑھ کر تعلیم نہیں لائے گا۔ (۳) وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا۔ بلکہ کلام اللہ لائے گا۔ (۴) اس کلام اللہ میں آئندہ کی خبریں ہوں گی۔ (۵) وہ کلام مجھ (یعنی مسیح ) پر دشمنوں کے عائد کردہ الزامات کو دور کرے گا۔ یہ سب باتیں رسول کریم میں یہ پر صادق آتی ہیں۔ پہلی بات حضرت مسیح نے یہ فرمائی تھی کہ وہ نبی ایسی تعلیم لائے گا جو پہلے کوئی نہیں لایا۔ قرآن کریم اس کے متعلق فرماتا ہے عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ یعنی قرآن کریم کے ذریعہ وہ وہ باتیں سکھائی گئی ہیں۔ جو کسی اور کو معلوم نہیں۔ دوسری بات حضرت مسیح نے یہ بیان کی تھی کہ وہ ساری باتیں بتائے گا۔ قرآن کریم میں اس کے متعلق آتا ہے ۔ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ آج سارا دین تم پر مکمل کر دیا گیا ہے۔ پھر سورہ کہف رکوع ۸ میں آتا ہے ۔ وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ - ۱۴ ہم نے اس قرآن میں ہر ضروری بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کر دیا ہے۔ تیسری بات حضرت مسیح نے یہ بتائی تھی کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا۔ بلکہ خدا تعالی اسے جو کچھ بتائے گا اسے پیش کرے گا۔ قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔ وَمَا ا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی ۵ یہ رسول اپنی طرف سے سے کچھ نہیں کہتا بلکہ خدا ہی کا کلام پیش کرتا ہے۔ باقی سب کتابوں میں انبیاء کی اپنی باتیں بھی ہیں۔ صرف قرآن ہی ایک ایسا کلام ہے جو سارے کا سارا خدا کا کلام ہے۔ پانچویں بات حضرت مسیح نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نبی ان الزامات کو دور کرے گا جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں۔ اس کے متعلق سب لوگ