انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 457

۴۵۷ اب دیکھو قرآن کی باتیں کیسی پوری ہوئیں- اور اس کی بیان کردہ پیشگوئیاں کس طرح سچی نکلیں- کفار نے جب رسول کریم ﷺ کے متعلق کہا کہ اس کی اولاد نہیں تو خدا تعالیٰ نے فرمایا- ہم اسے اولاد دیں گے- اور ابتر کہنے والوں کی اولاد ہی چھین کر دے دیں گے- چنانچہ ایسا ہی ہوا- اور یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی- حضرت مسیحؑ نے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے سے انکار کیا ہے- چنانچہ یوحنا باب۱ آیت۲۱ میں لکھا ہے-: ‘’انہوں نے اس سے پوچھا- پھر تو کون ہے- کیا ایلیاہ ہے- اس نے کہا- میں نہیں ہوں- کیا تو وہ نبی ہے- اس نے جواب دیا کہ نہیں’‘- اسی طرح اعمال باب۳ میں لکھا ہے کہ وہ نبی مسیح کی بعثت ثانی سے پہلے اور بعثت اول کے بعد ظاہر ہوگا- بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ-: ‘’سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے باتیں کیں ان سب نے ان دنوں کی خبر دی ہے’‘- ۵۹؎ یہ پیشگوئی رسول کریم ﷺ کے ذریعہ پوری ہوئی- کیونکہ آپﷺ ان کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے تھے- اسی طرح یسعیاہ آنے والے نبی کی خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں-: ‘’تب قومیں تیری راستبازی اور سارے بادشاہ تیری شوکت دیکھیں گے- اور تو ایک نئے نام سے کہلائے گا- جسے خداوند کا مونہہ خود رکھ دے گا’‘- ۶۰؎ سوائے اسلام کے دنیا میں کوئی مذہب نہیں جس کا نام خدا تعالیٰ نے ¶رکھا ہو- چنانچہ اسلام کے متعلق ہی فرمایا ہے- ورضیت لکم الاسلام دینا *۶۰؎ دوسری پیشگوئی بھی اسی کے ساتھ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ-: ‘’تو آگے کو متروکہ نہ کہلائے گی- اور تیری سرزمین کا کبھی پھر خرابہ نام نہ ہوگا- بلکہ تو حفیضیاہ کہلائے گی’‘- ۶۱؎ یہ پیشگوئی بھی اسلام کے متعلق ہی ہے- چنانچہ مکہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے- من دخلہ کان امنا ۶۲؎جو اس میں داخل ہو وہ امن میں آ جاتا ہے- پھر حضرت مسیحؑ کہتے ہیں-