انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 456

۴۵۶ کہا- یہ بے وقوف بچہ ہے- اسے جانے دیں- حالانکہ بات یہ تھی کہ انہوں نے قرآن سنا ہوا تھا- اور اب ان کے نزدیک شعروں کی کچھ حقیقت ہی نہیں رہ گئی تھی- بلکہ خود لبید نے مسلمان ہونے پر یہی طریق اختیار کیا- حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ اپنے ایک گورنر کو کہلا بھیجا کہ مجھے بعض مشہور شعراء کا تازہ کلام بھجواؤ- جب ان سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا- تو انہوں نے قرآن کریم کی چند آیات لکھ کر بھیج دیں- جب لبید نے دوسرا مصرع پڑھا اور کہا کہ ہر نعمت زائل ہونے والی ہے تو عثمانؓ نے کہا- یہ غلط ہے- جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہونگی- یہ سن کر اسے طیش آگیا اور اس نے اہل مجلس سے کہا کہ تم نے میری بڑی ہتک کرائی ہے- اس پر ایک شخص نے عثمانؓ کو برا بھلا کہا- اور اس زور سے مکا مارا کہ ان کی ایک آنکھ نکل گئی- ولید کھڑا دیکھ رہا تھا- اس نے کہا- دیکھا میری پناہ میں سے نکلنے کا یہ نتیجہ ہوا- اب بھی پناہ میں آجاؤ- حضرت عثمانؓ نے کہا- پناہ کیسی- میری تو دوسری آنکھ بھی انتظار کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلے- ان کے فوت ہونے پر رسول کریم ﷺ نے انہیں بوسہ دیا اور آپﷺ کی آنکھوں سے اس وقت آنسو جاری تھے- جب رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ ابراہیمؓ فوت ہوا- تو آپﷺ نے فرمایا الحق بسلفنا الصالح عثمان بن مظعون ۵۶؎یعنی ہمارے صالح عزیز عثمان بن مظعون کی صحبت میں جا- پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب دوسرا دعویٰ قرآن کریم کے متعلق یہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب ہے- چنانچہ استثناء باب۱۸ آیت۱۵ میں آتا ہے- ‘’خداوند تیرا خدا تیرے لئے- تیرے ہی درمیان سے- تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرے گا’‘-۵۷؎ اس میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ نبی جو آنے والا ہے وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہوگا بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہوگا گویا وہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے ہی ہوگا- نہ کہ کسی غیر قوم سے- پھر اس کی علامت یہ بتائی کہ-: ‘’جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے- اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو- تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی’‘- ۵۸؎