انوارالعلوم (جلد 12) — Page 454
انوار العلوم جلد ۱۳ فیضان سب قوموں کیلئے وسیع ہو۔ لدويد فضائل القرآن (۴) فرماتا ہے۔ اگر قرآن افترا ہے تو ان پانچ صفات والی کوئی سورۃ پیش کرو۔ اگر ان صفات والی سورۃ لے آؤ گے تو ہم مان لیں گے کہ انسان ایسی کتاب بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر تم سارے مل کر بھی نہ بنا سکو ۔ تو معلوم ہوا کہ ایسی کتاب کوئی انسان نہیں بنا سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس سورۃ (یونس) میں یہ دعوے کئے گئے ہیں اس سے پہلے جس قدر قرآن اتر چکا تھا۔ اس میں یہ پانچ باتیں پائی جاتی تھیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا قرآن کے اس حصہ میں یہ پانچوں باتیں ہیں۔ اگر ہیں تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ علم غیب پہلی بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن میں وہ باتیں ہیں جو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یعنی قرآن میں علم غیب ہے۔ اس کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کی نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ایک سورۃ کوثر ہے جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَعْطَيْنُكَ الْكَوْثَرَ - فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ - إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ۔ رسول کریم میں تعلیم کے متعلق دشمن کہا کرتا کہ یہ ابتر ہے۔ اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں۔ اس کے بعد اس کا جانشین کون بنے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں فرماتا ہے کہ تو ابتر نہیں بلکہ تیرا دشمن ابتر ہے۔ رسول کریم ملی تاہم کس طرح ابتر نہیں۔ اور آپ کا دشمن کس طرح ابتر ہے۔ اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ - اے محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) ہم نے تیرے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ ہم تجھے ایک عظیم الشان جماعت دیں گے۔ جو روحانی طور پر تیری فرزند ہوگی۔ اور اس اور اس میں بڑے بڑے اس اعلیٰ پایہ کے انسان ہوں گے۔ پھر فرماتا ہے ۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ ۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو اس خوشی میں خوب نمازیں پڑھ دعائیں کر اور قربانیاں کر ۔ پھر جب ہم تیری جماعت کو اور بڑھانے لگیں تو تو اور عبادت کر اور قربانیاں کر۔ کیونکہ ہم تیری روحانی نسل کو بڑھانے والے ہیں۔ اور یہ روحانی نسل اس طرح بڑھے گی کہ ابو جہل کا بیٹا چھینیں گے اور تجھے دے دیں گے۔ وہ ابتر ہو جائے گا۔ اور تو اولاد والا ہو گا۔ یہی حال دوسروں کا ہوگا۔ ان کے بیٹے چھین چھین کر ہم تمہیں دے دیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کے بیٹے رسول کریم میں ہم کو دیئے گئے۔ اور وہ روحانی لحاظ سے ابتر ہو گئے۔ یہی وجہ تھی کہ جوں جوں رسول کریم میں ہم کو کامیابی ہوتی گئی۔ کفار زیادہ تکلیفیں دیتے گئے۔ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا جو سورۃ کوثر میں بیان کی گئی ہے۔