انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 453

انوار العلوم جلد ۱۲ ۴۵۳ فضائل القرآن (۴) شیطان کی حکومت تو انہی پر ہوتی ہے جو اس کے دوست ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ محمد مسی ہم تو ساری عمر شرک کا رد کرتے رہے۔ ان سے شیطان کا کیا تعلق ہو سکتا ہے۔ سورة نواں اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ یہ شخص مفتری اور کذاب ہے۔ سورۃ ص نواں اعتراض میں آتا ہے۔ وہ دشمنوں نے کہا۔ هَذَا سَاحِرُ كَذَّابٌ اسی طرح محل ۱۴ میں آتا ہے ۔ قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مُفْتَر ۵۲، مخالف کہتے ہیں کہ تو مفتری ہے اللہ تعالیٰ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ وَمَا كَانَ هَذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَبَ لَا رَيْبَ فِيهِ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ - أَمْ يَقُولُونَ افْتَرُهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صُدِقِينَ - ۵۳ فرمایا۔ یہ قرآن خدا کے سوا کسی اور اور سے بنایا ہی نہیں جا سکتا۔ اس کے اندر تو پہلی کتابوں کی پیشگوئیوں کی تصدیق ہے۔ پھر اس کے اندر الہامی کتابوں کی تفصیل ہے اور اس میں شک کی کوئی بات نہیں۔ یہ کتاب رب العلمین کی طرف سے ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے پاس سے بنائی ہے۔ ان سے کہو کہ تم اس جیسی کوئی ایک ہی سورت لے آؤ۔ اکیلے نہیں سب کو اپنی مدد کے لئے بلا لو اگر تم واقع میں بچے ہو ۔ اس آیت میں پانچ دعوے قرآن کریم کے متعلق قرآن کریم کے متعلق پانچ دعوے پیش کئے گئے ہیں۔ اول یہ کہ قرآن اپنی دلیل آپ ہے اور اسے خدا کے سوا کوئی بنا ہی نہیں سکتا۔ اس میں ایسے امور ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہیں یعنی امور غیبیہ فرماتا ہے ۔ قُل لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللهُ ه کہ آسمان اور زمین میں خدا کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ مطلب یہ کہ قرآن میں غیب کی باتیں ہیں اور یہ خدا کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا۔ دو سرا دعوی یہ کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس میں پہلی کتابوں کی تشریح ہے۔ چوتھا یہ کہ ہر امر کو دلیل کے ساتھ ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے کہ اس کے درست ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا۔ پانچواں یہ کہ قرآن خدا کی صفت رَبُّ الْعَلَمِينَ کے ماتحت نازل ہوا ہے تاکہ اس کا