انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 3

۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے من کی حقیقت (رقم فرمودہ حضرت خلیفہ المیسح الثانی) ادبی دنیا کے جنوری نمبر میں مولوی نعیم الرحمن صاحب ایم- اے پروفیسر الہ آباد یونیورسٹی کا ایک مضمون مَنّ کی ماہیت کے عنوان سے شائع ہوا ہے- پروفیسر صاحب نے اس امر پر بحث کی ہے کہ بنی اسرائیل پر جو من نازل ہوا تھا- اس کی حقیقت کیا تھی- انہوں نے اول تو تورات کے بعض حوالے نقل کر کے بتایا ہے کہ تورات کی رو سے من اور اس کے نزول کی حقیقت کیا تھی- پھر طبی طور پر من کی جو ماہیت بتائی جاتی ہے‘ وہ بیان کر کے بتایا ہے کہ تورات میں مَنّ کی بیان کردہ حقیقت طبی تفصیلات کے مطابق نہیں- مجھے یہ مضمون پڑھ کر خوشی ہوئی کہ مسلمانوں میں بھی علمی تحقیق کا ذوق پیدا ہو رہا ہے اور وہ اس حالت جمود سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ’’یہ کیا ہے‘‘ کہنے سے باز رکھ رہی تھی اور اسی خوشی میں اس مضمون کے متعلق میں بھی بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں- بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر کنعان کی طرف آئے تو جس علاقہ میں سے انہیں گزرنا پڑا وہ بہت غیر آباد تھا اور دور دراز فاصلہ پر بعض شہر آباد تھے- اب تک یہ علاقہ ایسا ہی ہے اور اب بھی اس علاقہ سے گزرنا آسان نہیں- فلسطین پر انگریزی قبضہ کی وجہ سے اب اس علاقہ میں ریل جاری ہو گئی ہے اور سفر میں سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں لیکن اس غیر آبادی میں کوئی فرق نہیں آتا- کیونکہ یہ علاقہ آبادی کے قابل زمینوں سے خالی ہے اور بے آب و گیاہ میدانوں پر مشتمل ہے- ترکوں نے جنگ عظیم میں بہت کوشش کی کہ کسی طرح مصر میں داخل ہو کر انگلستان اور ہندوستان کے تعلقات قطع کر دیں لیکن پانی کی دقت اور سامان خورونوش کی کمی کے سبب عقلوں کو حیرت میں ڈال دینے والی قربانی کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے- انگریزوں نے بھی شروع میں بہت زور مارا لیکن خشک اور چٹیل میدانوں کی وجہ سے وہ بھی سویز کے راستہ سے فلسطین میں داخل نہ ہو سکے- آخر جنرل ایلنبی نے نیل سے پانی لے کر