انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 442

۴۴۲ باللہ قرآن بنا لیا- سیل (SALE) اس خیال کو رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بحیرہ کا مکہ جانا ثابت نہیں- اور یہ خیال کہ آپﷺ نے جوانی میں دعویٰ سے بہت پہلے بحیرہ سے قرآن سیکھا ہو عقل کے خلاف ہے- ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اس سے مسیحیت کا کچھ علم سیکھا ہو- وہیری ان روایتوں سے خوش ہو کر کہتا ہے کہ خواہ ناموں میں اختلاف ہی ہو لیکن یہ روایت اتنی کثرت سے آتی ہے کہ اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے- کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس بعض مسیحی اور یہودی آتے تھے- اور یہ کہ انہوں نے ان کی گفتگو سے خاص طور پر فائدہ اٹھایا اور جواب کی کمزوری بتاتی ہے کہ کچھ دال میں کالا کالا ضرور ہے‘ ورنہ یہ کیا جواب ہوا کہ اس کی زبان اعجمی ہے- ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بنا دیتا ہو- اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اسے عربی میں ڈھال لیتے ہوں (وہ اپنے اس خیال کی تصدیق میں آرنلڈ کو بھی پیش کرتا ہے) اس کے بعد وہ لکھتا ہے-: “It is because of this that we do not hesitate to reiterate the old charges of deliberate imposture۔” 38؎ یعنی ہم یہ پرانا الزام دہراتے ہوئے اپنے دل میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جان بوجھ کر جھوٹ بنایا- اوپر کے مضمون سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ اس اعتراض کو خاص اہمیت دیتے تھے- اور ان کے وارث مسیحیوں نے اس اہمیت کو اب تک قائم رکھا ہے- میں پہلے مسیحیوں کے اعتراضات کو لیتا ہوں- اور اس شخص کو جواب میں پیش کرتا ہوں جسے عیسائی خدا کا بیٹا کہتے ہیں- حضرت مسیح پر یہ اعتراض ہوا تھا- کہ ان کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور دیوؤں کو اس کی مدد سے نکالتے ہیں- چنانچہ لکھا ہے-: ‘’پھر وہ ایک گونگی بد روح کو نکال رہا تھا- اور جب وہ بدروح اتر گئی تو ایسا ہوا کہ گونگا بولا اور لوگوں نے تعجب کیا- لیکن ان میں سے بعض نے کہا- یہ تو بدروحوں کے سردار بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے بعض اور لوگ آزمائش کے لئے اس سے ایک آسمانی نشان طلب کرنے لگے مگر اس نے ان کے خیالوں کو جان کر ان سے کہا کہ جس کسی بادشاہت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے- اور اگر شیطان بھی اپنا مخالف ہو جائے تو اس کی