انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 440

۴۴۰ قرآن کریم میں دو جگہ بھی یہ ذکر آیا ہے- سورہ نحل رکوع ۱۴ میں ہے- قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق لیثبت الذین امنوا وھدی وبشری للمسلمین- ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا لسان عربی مبین- ۳۵؎فرمایا- اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو مخالفوں سے کہدے کہ قرآن کو روح القدس نے اتارا ہے تیرے رب کی طرف سے ساری سچائیاں اس میں موجود ہیں- اور اس لئے اتارا ہے کہ مومنوں کے دل مضبوط ہوں اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہو- اور ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کسی اور نے قرآن سکھایا ہے مگر جس کی طرف وہ یہ بات منسوب کرتے ہیں وہ عجمی ہے (عجمی وہ ہوتا ہے جو عرب نہ ہو- یا عرب تو ہو مگر اپنے مافی الضمیر کو اچھی طرح عربی میں بیان نہ کر سکے( اور یہ جو کلام ہے یہ تو زبان عربی میں ہے اور وہ بھی معمولی نہیں بلکہ خوب کھول کھول کر بیان کرنے والی- دوسری جگہ فرماتا ہے- وقال الذین کفروا ان ھذا الا افک افترانہ واعانہ علیہ قوم اخرون- فقد جاوا ظلما و زورا- و قالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرة واصیلا- قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض انہ کان غفورا رحیما ۳۶؎یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ صرف ایک جھوٹ ہے- جو اس نے بنا لیا ہے اور اس بنانے میں کچھ اور بھی لوگ اس کی مدد کرتے ہیں- یہ بات کہنے میں انہوں نے بڑا ظلم کیا ہے- اور بڑا افترا باندھا ہے و قالوا اساطیر الاولین اکتتبھا اور وہ کہتے ہیں کہ اس میں پرانے قصے ہیں جو لکھوا لیتا ہے- یعنی دو جماعتیں ہیں ایک مضمون بناتی ہے اور ایک لکھ لکھ کر دیتی ہے- فھی تملی علیہ بکرہواصیلا پھر اس کی مجلس میں اسے خوب پڑھتے ہیں- تا کہ یاد ہو جائے قل انزلہ الذی یعلم السر فی السموت والارض کہدے- اسے خدا نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں کو جاننے والا ہے- انہ کان غفورا رحیما وہ بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے- اس اعتراض میں آج کل عیسائی بھی شامل ہو گئے ہیں- اور بڑے بڑے مصنف مزے لے لے کر اسے بیان کرتے ہیں- وہ کہتے ہیں- محمد (صلی اللہ علیہ وسل) کو کیا پتہ تھا کہ عیسائیوں