انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 439

انوارالعلوم جلد ۱۳ ٣٩ فضائل القرآن (۴) مشہور کرنا ہوتی ہے۔ مگر یہ تو کہتا ہے مِثْلُكُمْ میں تمہارے جیسا ہی انسان ہوں۔ پھر شاعران لوگوں کی مدح کرتا ہے جن سے اس نے کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مگر یہ تو کہتا ہے کہ میں تم سے کچھ نہیں لیتا۔ نہ کچھ مانگتا ہوں۔ پس شاعری اور اس کا لایا ہوا کلام آپس میں کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ سوم۔ پھر اس میں ذکر ہے حالانکہ شعر ذکر نہیں ہوتا۔ یعنی شاعر اندرونی جذبات کو ابھارتا ہے۔ شہوت اور حسن پرستی کا ذکر کرتا ہے۔ مگر یہ ایسی باتوں کی مذمت کرتا ہے۔ چہارم۔ پھر یہ ایسا کلام ہے جو فطرت کے اعلیٰ محاسن کو بیدار کر کے جن کی فطرت صحیح ہوتی ہے۔ انہیں بدیوں سے بچاتا ہے۔ اور جو مردہ ہوتے ہیں ان پر حجت تمام کرتا ہے۔ حالانکہ شاعر جذبات بہیمیہ کو اُبھارتا ہے۔ پس اسے مجازی طور پر بھی شعر نہیں کہہ سکتے۔ ساتواں اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ معلم ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ساتواں اعتراض أَنِّي لَهُمُ الذِّكْرَى وَ قَدْ جَاءَ هُمْ رَسُولَ وَلَّ مُّبِينٌ - ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوا مُعَلَّمَ مَجْنُونَ ۔ ۳۴ فرمایا ان نا معقولوں کو کہاں سے نصیحت حاصل ہو گئی۔ حالانکہ ان کے پاس اعلیٰ درجہ کے معارف بیان کرنے والا رسول آیا ۔ مگر یہ لوگ اس سے منہ پھیر کر چلے گئے۔ اور کہہ دیا کہ اسے کوئی اور سکھا جاتا ہے اور مجنون ہے۔ مطلب یہ کہ یہ ایسا نادان ہے کہ لوگ اس کو اس کے باپ دادا کے دین کے خلاف باتیں بتا جاتے ہیں اور یہ آگے ان کو بیان کر دیتا ہے۔ بعض لوگ رسول کریم میں اللہ پر اعتراض کرتے تھے اور اب تک کرتے ہیں کہ قرآن نہ آپ پر نازل ہوا۔ نہ آپ نے بنایا بلکہ کوئی اور شخص ان کو سکھا دیتا تھا۔ مکہ والے کہتے تھے کہ مکہ کا ہو کر محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کس طرح اپنی قوم کے بتوں کی مذمت کر سکتا ہے۔ اور ان کے مقابلہ میں دوسری قوم کے نبیوں کی تعریف کر سکتا ہے اسے کوئی اور اس قسم کی باتیں سکھا جاتا ہے۔ جب وہ حضرت موسیٰ کی تعریف قرآن میں سنتے تو کہتے کہ کوئی یہودی سکھا گیا ہے اور جب حضرت عیسیٰ کی تعریف سنتے تو کہتے کوئی عیسائی بتا گیا ہے۔ اس میں ان کو اس بات سے بھی تائید مل جاتی کہ قرآن کریم میں پہلے انبیاء کے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔ اس جگہ مجنون حقیقی معنوں میں نہیں آیا۔ بلکہ غصہ کا کلام ہے کیونکہ معلم اور مجنون یکجا نہیں ہو سکتے ۔ مطلب یہ کہ پاگل ہے۔ اتنا نہیں سمجھتا کہ لوگ اسے اپنے مذہب اور اور قوم کے خلاف باتیں سکھاتے ہیں۔