انوارالعلوم (جلد 12) — Page 438
۴۳۸ کا کلام سمجھا جاتا ہے- مگر یہ تو رسول ہے- تیسری دلیل یہ دی کہ کاہن تو اپنے اخبار کو اپنے علم کی طرف منسوب کرتا ہے- اور کہتا ہے کہ میں نے جفر‘ رمل‘ تیروں اور ہندوسوں وغیرہ سے یہ یہ باتیں معلوم کی ہیں- وہ خدا تعالیٰ کی طرف اپنی خبروں کو منسوب نہیں کرتا- مگر یہ رسول کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے کلام پا کر سناتا ہوں اور یہ اپنے کلام کو تنزیل من رب العلمین کہتا ہے- یہاں یہ بھی بتا دیا کہ کاہن ایسی باتیں بیان کرنے کی وجہ سے اس لئے سزا نہیں پاتا کہ وہ خدا پر تقول نہیں کرتا بلکہ اپنی طرف سے بیان کرتا ہے- مگر رسول کہتا ہے کہ خدا کی طرف سے میں بیان کرتا ہوں- اگر رسول جھوٹا ہو تو فوراً تباہ کر دیا جاتا ہے- پس یہ کاہن نہیں ہے بلکہ خدا کا سچا رسول ہے- اور اس پر جو کلام نازل ہوا ہے- یہ رب العالمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے- اگر کہو کہ یہ اس طرح اپنی کہانت کو چھپاتا ہے تو یاد رکھو کہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والا کبھی سزا سے نہیں بچ سکتا- اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا- خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقیناً اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور اس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا جو اسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا- چھٹا اعتراض ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ آپ شاعر ہیں- چنانچہ سورۃ انبیاء رکوع اول میں آتا ہے بل ھو شاعر کہ یہ فصیح باتیں بیان کر کے لوگوں پر اثر ڈال لیتا ہے- اس کا جواب سورۃ یٰسین رکوع ۵ میں یہ دیا کہ وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ- ان ھو الا ذکر و قران مبین- لینذر من کان حیا و یحق القول علی الکافرین۳۳؎ یعنی ہم نے اسے شعر نہیں سکھایا- اور یہ تو اس کی شان کے مطابق بھی نہیں ہے- یہ تو ذکر اور قران مبین ہے- کھول کھول کر باتیں سنانے والا ہے- یہ اس لئے نازل کیا گیا ہے تا کہ اسے جس میں روحانی زندگی ہے ڈرائے اور کافروں پر حجت تمام ہو جائے- اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اول قرآن شعر نہیں- ان لوگوں کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ نثر کو شعر کہتے ہیں- دوم- اگر کہیں کہ مجازی معنوں میں شعر کہتے ہیں کیونکہ شعر کے معنے ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو اندر سے باہر آئے اور شعر کو اس لئے شعر کہا جاتا ہے کہ وہ جذبات کو ابھارتا ہے تو اس کا جواب یہ دیا کہ وما ینبغی لہ یہ تو اس کی شان کے ہی مطابق نہیں کہ اس قسم کی باتیں کرے- اس کی ساری زندگی دیکھ لو- شاعر کی غرض اپنے آپ کو