انوارالعلوم (جلد 12) — Page 433
انوار العلوم جلد ۱۳ له امام فضائل القرآن (۴) پھر بعض اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ هذَا سَاحِرُ الله کہ یہ ہیں۔ تیسرا اعتراض جادو گر ہے۔ سحر کے معنی عربی زبان میں جھوٹ کے بھی ہوتے۔ مگر مخالفین نے رسول کریم میں تعلیم کو الگ بھی جھوٹا کہا ہے۔ اس لئے اگر اس کے معنی جھوٹ کے ہوں تو اس کا جواب علیحدہ ہوگا۔ دوسرے معنی سحر کے یہ ہوتے ہیں کہ باطن میں کچھ اور ہو اور ظاہری شکل میں کچھ اور دکھائی دے۔ اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ وَإِنْ يَرَوْا أَيَةً يَعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِر ۲۲ اگر یہ لوگ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا کوئی نشان دیکھتے ہیں تو اعراض کر لیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہم ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔ یہ بڑا پرانا جادو ہے۔ آگے فرماتا ہے حِكْمَةٌ بَالِغَةً فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ٢٣ قرآن میں تو حکمت بالغہ ہے۔ قرآن میں ایسے مضامین ہیں جو دلوں میں تبدیلی پیدا کرنے والے ہیں۔ سحر کے معنی تو یہ ہیں کہ ظاہر کو مسخ کر دیا جائے اور باطن آزاد رہے۔ مگر قرآن کا اثر تو یہ ہے کہ ظاہر کی بجائے دلوں کو بدلتا ہے۔ اس لئے اسے سخر نہیں کہہ سکتے۔ یہ حکمت بالغہ ہے۔ یعنی حکمت کی ایسی باتیں ہیں جو دور تک اثر کرنے والی ہیں۔ یہ اندرونی جذبات اور افکار پر اثر ڈالتی ہیں۔ مگر ان لوگوں کو یہ انذار فائدہ نہیں دیتا۔ پھر بعض نے کہا کہ یہ ساحر تو معلوم نہیں ہوتا ہاں مسحور ضرور ہے۔ یعنی خود چوتھا اعتراض تو بڑا اچھا ہے۔ لیکن کسی نے اس پر سحر کر دیا ہے اس لئے یہ ایسی باتیں کہتا پھرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَقَالَ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُوْنَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا یعنی ظالم لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ایک مسحور کی اتباع کر رہے ہیں۔ کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کی عقل ماری گئی ہے۔ اس آیت سے پہلے ملائکہ کے نزول کے متعلق معترضین کا مطالبہ ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور خزانے عطا کرتے ہیں (ملائکہ سے الہام اور خزانے سے معارف قرآن مراد تھے) تو مخالفین نے کہا۔ کہ دیکھو اسے جو ملائکہ نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مسحور ہے۔ فرشتے ہمیں نہیں نظر آتے۔ خزانے ہمیں نہیں دکھائی دیتے۔ مگر یہ کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ اور خزانے مل رہے ہیں، کہاں ملے ہیں؟ یہ سحر کا ہی اثر ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے۔ اسی طرح اور بہت سے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔