انوارالعلوم (جلد 12) — Page 432
۴۳۲ یہ پاگل کہنے والوں کے متعلق تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کے برا بھلا کہنے پر چپ رہو- کیا ایسا بھی کوئی پاگل ہوتا ہے جو صرف آپ ہی پاگل کہنے والوں کے مقابلہ میں اپنے جوش کو نہ دبائے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی یہ ہدایت کر جائے کہ مخالفوں کو برا بھلا نہ کہنا- فستبصر و یبصرون پس عنقریب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ بایکم المفتون تم دونوں میں سے کون گمراہ ہے- اس دلیل میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پاگل کو کبھی خدائی مدد نہیں ملتی- محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی مدد سے کامیاب ہو رہے ہیں پھر ان کو پاگل کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے- دوسرا اعتراض دوسرا اعتراض رسول کریم ﷺ پر اس حالت میں کیا گیا جب مخالفین نے دیکھا کہ پاگل کہنے پر عقلمند لوگ خود ہمیں پاگل کہیں گے- جب وہ یہ دیکھیں گے کہ جسے پاگل کہتے ہیں اس نے تو نہ کسی کو مارا ہے نہ پیٹا- بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھائے ہیں- پس انہوں نے سوچا کہ کوئی اور بات بناؤ- اس پر انہوں نے کہا- اسے پریشان خوابیں آتی ہیں اور ان کی وجہ سے دعویٰ کر بیٹھا ہے- چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے- بل قالوا اضغاث احلام۱۹؎ کہتے ہیں اس کا کلام اضغاث احلام ہے کچھ مشتبہ سی خوابیں ہیں جو اسے آتی ہیں- یعنی آدمی تو اچھا ہے- اس کی بعض باتیں پوری بھی ہو جاتی ہیں لیکن بعض بری باتیں بھی اسے دکھائی دیتی ہیں- جنون اور اضغاث احلام میں یہ فرق ہے کہ جنون میں بیداری میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے- لیکن اضغاث میں نیند میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے- چونکہ مخالفین دیکھتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کے معاملات میں کوئی نقص نہیں اس لئے کہتے کہ جنون سے مراد ظاہری جنون نہیں بلکہ خواب میں اسے ایسی باتیں نظر آتی ہیں- اس کا جواب قرآن کریم یہ دیتا ہے کہ لقد انزلنا الیکم کتبا فیہ ذکرکم افلا تعقلون ۲۰؎جن لوگوں کو اضغاث احلام ہوتی ہیں کیا ان کی خوابوں میں قومی ترقی کا بھی سامان ہوتا ہے؟ پراگندہ خواب تو پراگندہ نتائج ہی پیدا کر سکتی ہے- مگر اس پر تو وہ کتاب نازل کی گئی ہے جو تمہارے لئے عزت اور شرف کا موجب ہے- کیا دماغ کی خرابی سے ایسی ہی تعلیم حاصل ہوتی ہے؟ تم اپنے آپ کو عقلمند کہتے ہو- کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکتے؟