انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 431

انوار العلوم جلد ۱۴ ۴۳۱ فضائل القرآن (۴) کچھ نہ کچھ عقل تو ہوتی ہے۔ وہ کھانا کھاتے اور کپڑا پہنتے اور پانی پیتے ہیں۔ پاگل انہیں اس لئے کہتے ہیں کہ او کہ ادنی معیار عقل جو قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے ان کی عقل کم ہو جاتی ہے ۔ خدا تعالیٰ رسول کریم ملی کو پاگل کہنے والوں کے متعلق فرماتا ہے۔ تم اسے پاگل کہتے ہو ۔ مگر سب سے زیادہ عقلمند لکھنے پڑھنے والے عالم سمجھے جاتے ہیں اور مصنفین کو بڑا دانا تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں ان عقلمندوں کی باتیں مقابلہ کیلئے لاؤ۔ دنیا کی تمام کتابیں جو اب تک لکھی جا چکی ہیں انہیں اکٹھا کر کے لاؤ۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو اپنی طرف سے لوگوں نے لکھی ہیں بلکہ فرمایا جو لکھی گئی ہیں۔ گویا مذہبی اور آسمانی کتابیں بھی لے آؤ۔ یا اعلیٰ درجہ کے علوم کی کتابیں جو لائبریریوں میں محفوظ رکھی جاتی ہیں وہ نکال کر لاؤ۔ اگر یہ سب کی سب کتابیں اس کے مقابلہ میں بیچ ثابت ہوں تو انہیں مانا چاہئے ۔ کہ مَا انْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تو مجنون نہیں ہے۔ دیکھو! یہ کتنا بڑا دعوئی ہے اور کتنی زبردست دلیل ہے ۔ یہ اس زمانہ کے لوگوں کو دلیل دی۔ اور بعد میں آنے والوں کو یہ دلیل دی کہ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ - آئنده بھی جو لوگ تجھے پاگل کہیں گے ہم انہیں کہیں گے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اب تو تمہارے سامنے نہیں مگر اس کے کارناموں کے نتائج تمہارے سامنے ہیں۔ پاگل جو کام کرتا ہے اس کی کوئی جزا نہیں ہوتی۔ کیا جب کوئی پاگل بادشاہ بن جاتا ہے تو اسے کوئی ٹیکس ادا کیا کرتا ہے۔ یا ڈاکٹر بن جاتا ہے تو کوئی اس سے علاج کراتا ہے۔ یا کوئی نبی بنتا ہے تو کوئی اس کا مرید بنتا ہے ؟ مگر رسول کریم مسلم کے متعلق فرمایا کہ ہم اس کے کاموں کا وہ اجر دیں گے جو کبھی کاٹا نہیں جائے گا۔ کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا جب اس کے اعمال کا اجر نہ مل رہا ہو گا۔ جب بھی کوئی پاگل ہونے کا اعتراض کرے۔ اس کے سامنے یہ بات رکھ دی جائے کہ پاگل کے کام کا تو نتیجہ اس وقت بھی نہیں نکلتا جب وہ کر رہا ہوتا ہے۔ مگر رسول کریم میں کے متعلق دیکھو کہ کئی سو سال گذر جانے کے بعد بھی نتائج نکل رہے ہیں۔ پھر فرمایا۔ ہم ایک اور بات بتاتے ہیں۔ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ - پاگل کو پاگل کہو تو وہ تھپڑ مارے گا۔ لیکن عقلمند برداشت کر لے گا۔ اگر یہ لوگ تجھے پاگل سمجھتے تو تیری مجلس میں آکر تجھے پاگل نہ کہتے بلکہ تجھ سے دور بھاگتے۔ یہ جو تیرے سامنے تجھے پاگل کہتے ہیں یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ تو پاگل نہیں ہے اور آئندہ آنے والوں کے لئے یہ ثبوت ہے کہ