انوارالعلوم (جلد 12) — Page 430
۴۳۰ مخالفین اسلام کے اعتراضات کا رد ّ اس کے بعد میں ان بعض اعتراضات کو لیتا ہوں جو رسول کریم ﷺ کی ذات پر کئے گئے ہیں اور بتاتا ہوں کہ کس طرح قرآن کریم نے ان کو رد کر کے آپﷺ کے بے عیب اور کامل ہونے کو ثابت کیا ہے- کیونکہ قرآن نے رسول کریم ﷺ کی پاکیزگی ثابت کرنے کا فرض خود اپنے ذمہ لیا ہے- کسی بندہ پر نہیں چھوڑا- پہلا اعتراض جو رسول کریم ﷺ کی زندگی پر ہو سکتا تھا وہ یہ ہے کہ آپ کے دعویٰ کے موجبات و محرکات کیا تھے؟ یا یہ کہ قرآن پیش کرنے کا اصل باعث کیا تھا؟ کوئی کہتا آپﷺ نعوذ باللہ پاگل ہیں- کوئی کہتا اسے جھوٹی خوابیں آتی ہیں- کوئی کہتا ساحر ہیں- کوئی کہتا جھوٹ بولتے ہیں- کوئی کہتا کاہن ہیں- غرض مختلف قسم کے خیالات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے- یہی خیالات آج تک چلتے چلے آتے ہیں- جب بھی کوئی مصنف رسول کریم ﷺ کے خلاف لکھتا ہے تو یہی کہتا ہے آپﷺ جھوٹے تھے اور کوئی کہتا ہے کہ نعوذ باللہ آپ مجنون تھے- پہلا اعتراض میں سب سے پہلے جنون کے اعتراض کو لیتا ہوں- چونکہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اتنی پاکیزہ تھی کہ منکر اس کے متعلق کوئی حرف گیری نہیں کر سکتے تھے اس لئے جب آپﷺ کا کلام سنتے تو یہ نہ کہہ سکتے کہ آپﷺ جھوٹے ہیں بلکہ یہ کہتے کہ پاگل ہے- چونکہ مشرکانہ خیالات ان لوگوں کے دلوں میں گڑے ہوئے تھے ادھر وہ سمجھتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے ان دونوں باتوں کے تصادم سے یہ خیال پیدا ہو جاتا کہ اس کی عقل ماری گئی ہے- قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- وقالوا یا ایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون ۱۷؎جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پیش کیا تو لوگوں نے حیران ہو کر کہ اب کس طرح انکار کریں یہ کہہ دیا کہ اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ مجھ پر خدا کا کلام اترا ہے تیرا دماغ پھر گیا ہے اور تو پاگل ہو گیا ہے اس کا جواب قرآن کریم میں اس طرح دیا گیا ہے کہ ن والقلم ومایسطرون- ماانت بنعمة ربک بمجنون- وان لک لاجرا غیر ممنون- وانک لعلی خلق عظیم- فستبصر ویبصرون- بایکم المفتون- ۱۸؎لوگ تجھے پاگل کہتے ہیں مگر ہم دوات اور قلم کو تیری سچائی کے لئے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں- پاگل آخر کسے کہتے ہیں- اسے جس کی عقل عام انسانوں کی عقل کی سطح سے نیچے ہوتی ہے- ورنہ پاگلوں میں بھی