انوارالعلوم (جلد 12) — Page 426
۴۲۶ اسی طرح اعلیٰ درجہ کے کلام کو سمجھانے کیلئے اعلیٰ درجہ کے علم کی ضرورت ہوتی ہے- اگر کوئی کتاب علمی لحاظ سے بہت بلند مرتبہ رکھتی ہو تو اس کو پڑھانے والے کے لئے بھی اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہوگی- ایم- اے کے طلباء کو پڑھانے والا معمولی قابلیت کا آدمی نہیں ہو سکتا- اگر کسی جگہ کوئی پرائمری پاس پڑھانے کیلئے بھیجا جائے تو سمجھا جائے گا کہ ابتدائی قاعدہ پڑھایا جائے گا- اگر انٹرنس پاس بھیجا جاتا ہے تو سمجھا جائے گا کہ چوتھی پانچویں جماعت کو پڑھائے گا- اگر گریجویٹ بھیجا جاتا ہے تو نویں دسویں کو پڑھائے گا- اور اگر مشہور ڈگری یافتہ بھیجا جائے تو سمجھا جائے گا کہ بڑی جماعتوں کیلئے ہے- اسی طرح الہامی کتاب لانے والے کی شخصیت سے بھی کتاب کی افضیلت یا عدم افضلیت کا پتہ لگ جاتا ہے- لیکن اگر خود کتاب ہی اس کی افضلیت ثابت کر دے تو یہ اور بھی اعلیٰ بات سمجھی جائے گی کہ اس نے اس شق میں بھی خود ہی ثبوت دے دیا اور کسی اور ثبوت کی محتاج نہ ہوئی- غرض چونکہ اس انسان کے چلن کا جس پر کتاب نازل ہوئی ہو کتاب کی اشاعت پر خاص اثر پڑتا ہے اس لئے وہی کتاب کامل ہو سکتی ہے جو اس کے کریکٹر کو نمایاں طور پر پیش کرے تا کہ لوگ اس کے منبع کی نسبت شبہ میں نہ رہیں- پس یہ ثابت کرنے کیلئے کہ قرآن کا منبع مشتبہ نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی زبان پر جاری ہوا ہے یہ ضروری ہے کہ قرآن ثابت کرے کہ اس کے لانے والا ایک مقدس اور بے عیب انسان تھا کیونکہ جب تک یہ ثابت نہ ہو باوجود کتاب کے کامل و افضل ہونے کے انسان کے دل میں ایک شبہ رہتا ہے کہ نہ معلوم اس کا لانے والا کیسا انسان تھا اور دوسرا شبہ یہ رہتا ہے کہ نہ معلوم اس کتاب نے اس کے پہلے مخاطب پر کیا اثر کیا- اگر اس پر اچھا اثر نہیں کیا تو ہم پر کیا اثر کرے گی- اور اگر اس نے اپنے پہلے مخاطب کو فائدہ نہیں پہنچایا تو ہمیں کیا پہنچا سکے گی- پس کتاب کی افضلیت پر بحث کرتے ہوئے ہمیں کتاب لانے والے کے اخلاق پر اور لانے والے کی افضلیت پر بحث کرتے ہوئے اس کے پیش کردہ خیالات پر ضرور بحث کرنی ہوگی- قرآن کریم کو یہ فضیلت بھی دوسری کتب پر حاصل ہے یعنی اس کا لانے والا انسان دوسرے انسانوں سے خواہ وہ کوئی ہوں افضل ہے- اور مزید افضلیت یہ ہے کہ قرآن کریم اس دلیل کے محفوظ رکھنے میں کسی دوسرے کا محتاج نہیں ہے اس دلیل کو بھی خود اس نے ہی محفوظ کر دیا ہے- یہاں تک کہ میور جیسا متعصب انسان بھی لکھتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حالات کا بہترین منبع قرآن ہے-۱۱؎ اس موقع پر وہ حضرت عائشہؓ کا یہ قول نقل کرتا ہے