انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 404

۴۰۴ ذکر پر ہی کہہ دیا کہ گورنمنٹ اس میں دخل نہیں دے سکتی لیکن آخر میں نے دلائل سے منوا لیا کہ حکومت کو دخل دینا پڑے گا- اس کے بعد حکومت کے اور بڑے بڑے افسروں سے ملنے کے لئے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو بھیجا گیا اور انہیں مائل کیا کہ کشمیر کے متعلق بیرونی آدمیوں کی باتیں سننے کیلئے تیار ہوں- یہ پہلا کام تھا جو کشمیر کے متعلق کیا گیا اور اسے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے- پھر وائسرائے نے خود اس تجویز کو پسند کیا اور زور دیا کہ ریاست سے کہا جائے مسلمانوں کا وفد قبول کرے لیکن ریاست کی بدقسمتی سے جب مہاراجہصاحب کو وفد کے متعلق تار دیا گیا جس میں معزز اصحاب شامل تھے- نواب سر ذوالفقار علی خان صاحب‘ نواب ابراہیم علی خاں صاحب آف کنجپورہ‘ مولوی اسمعیل صاحب غرنوی تو وزیراعظم کی طرف جواب آیا کہ صورت حالات پر پوری طرح قابو پا لیا گیا ہے اس لئے مہاراجہصاحب وفد سے ملنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ وفد کے آنے سے ازسر نو جوش پیدا ہو جائے گا- اس پر میں نے حجت تمام کرنے کے لئے اپنے نام سے تار دیا جس میں مہاراجہ صاحب کو لکھا کہ اگرچہ کشمیر میں بظاہر امن نظر آتا ہے لیکن ایجی ٹیشن موجود ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں آپ وفد منظور کریں-اس کا جواب یہ آیا کہ چونکہ آپ خود آگاہ ہیں کہ ایجی ٹیشن کی جڑیں بہت گہری ہیں اس لئے وفد کو آنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی- پہلے تو کہا گیا تھا چونکہ امن قائم ہو گیا ہے اس لئے وفد کے آنے کی ضرورت نہیں اور پھر کہا ایجی ٹیشن کی جڑیں گہری ہیں اس لئے وفد منظور نہیں کیا جا سکتا- جب ان دونوں صورتوں میں وفد کو اجازت نہیں دی جا سکتی تھی تو پھر اور کون سا وقت وفد کے آنے کا ہو سکتا تھا- یہ پہلی غلطی تھی جو ریاست نے کی جس نے اسے کمزور اور ہمارے ہاتھوں کو مضبوط بنا دیا- اب ہم لوگوں کو آسانی سے سمجھا سکتے تھے کہ ریاست امن قائم نہیں کرنا چاہتی اور اس سے ایسے لوگوں کی ہمدردی حاصل کر سکتے تھے جو اور طرح ممکن نہ تھی- اس کے بعد ‘’کشمیر ڈے’‘ مقرر کیا گیا- جس کی کامیابی میں ہماری جماعت نے بہت کام کیا ہر جگہ بڑے بڑے جلوس نکلے- جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک کشمیر کے مسلمانوں کی ہمدردی کا احساس پیدا ہو گیا- اس کے بعد برابر یہ کام جاری رہا اور موجودہ حالت ایسی ہے کہ مکمل کامیابی میں بعض روکیں نظر آتی ہیں مگر میں نے اپنے نفس سے اقرار کیا ہے اور طریق بھی یہی ہے کہ مومن جب کوئی کام شروع کرے تو اسے ادھورا نہ چھوڑے- میں