انوارالعلوم (جلد 12) — Page xlv
انوار العلوم جلد ۱۲ تعارف کتب (۳۰) مستورات سے خطاب اپنے دستور کے مطابق حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یہ تقریر جلسہ سالانہ کے دوسرے دن ۲۷ دسمبر ۱۹۳۲ ء خواتین کی جلسہ گاہ میں فرمائی ۔ آپ نے بیان کیا کہ آج کل ہر جگہ یہ رو چل پڑی ہے کہ عورتیں اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھا رہی ہیں ۔ فرمایا کہ غیر مسلم عورتوں کو تو حقوق ملے ہی نہیں اس لئے وہ حقوق طلب کرتی ہیں ۔ مگر مسلمان عورتوں کو تو اللہ تعالیٰ نے خود حقوق دے دیئے ہیں ۔ ہاں انہوں نے اپنے حقوق کو استعمال کرنا نہیں سیکھا ۔ پس انہیں حقوق حاصل کرنے کے جھگڑے میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ان کے حقوق تو قرآن وحدیث میں بیان کر دیئے گئے ہیں ان کا کام اب یہ ہے کہ مطالعہ کر کے اپنے حقوق معلوم کریں اور پھر انہیں استعمال کرنے کا طریق سیکھیں ۔ حضور نے خواتین کو توجہ دلائی کہ چند اخلاق اپنے اندر قابلیت پیدا کرنے کیلئے ضروری ہیں ۔ ان میں سے ایک شکر ہے فرمایا کہ شکر گزاری کے ساتھ ترقی اور بہتری کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔ ہماری عورتوں کو شکر گزاری خاص طور پر اختیار کرنی چاہئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہت سی عورتیں ناشکری کی وجہ سے جہنم میں جائیں گی۔ اس کے علاوہ صبر، تعاون با ہمی ، جرات ، انکسار اور تواضع وغیرہ اخلاق اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ باتیں قومی اصلاح اور ترقی کیلئے لازمی ہیں ۔ آخر میں حضور نے نظام جماعت کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا :۔ آخر میں ضروری نصیحت کرتا ہوں کہ اتحاد کیلئے ایک نظام اور پابندی کی ضرورت ہے۔ عورتوں میں نظام اور پابندی قوانین بالکل نہیں ۔ یہ بہت ضروری بات ہے ۔ کوشش سے اس پر عامل ہونا چاہئے ۔ دیکھو اسلام میں جب شراب کی حرمت کا حکم ہے فوراً صحابہ کرام نے تعمیل کی۔ پھر ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت رسول ہوا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا بیٹھ جاؤ۔ تو سب لوگ جہاں بھی آپ کی آواز پہنچی بیٹھ گئے ۔ کسی صحابی نے دوسرے کو ایک راستہ میں غیر مانوس سی جگہ پر بیٹھے دیکھ کر «XXXXXXX