انوارالعلوم (جلد 12) — Page 378
۳۷۸ جماعتوں میں گنہگار لوگ بھی ضرورہوتے ہیں ان کے ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ جماعتیں کام کرنا چھوڑ دیں بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ تمام افراد مجموعی زور سے کام کریں اور یہی غرض جماعتوں کے بنانے سے ہوتی ہے- پس میںامید کرتا ہوں کہ کمزور باوجود کمزوریوں کے اور طاقتور اپنی طاقت کے ساتھ مل کر کام کرتے چلے جائیں گے حتی کہ اللہ تعالیٰ وہ دن لے آئے جس کے لئے انبیاء کو اللہ تعالیٰ بھیجتا رہا ہے- جماعت کی ترقی دو ہی طریق سے ہو سکتی ہے- اول آپس میں محبت اور پیار سے دوسرے تبلیغ سے- بہت سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اس لئے وہ دوسروں سے نہیں ملتے- اور بہت سے لوگ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے ہیں اور اس اپنی کمزوری کی وجہ سے وہ ان لوگوں سے نہیں ملتے جن کو وہ معزز سمجھتے ہیں- لیکن اگر ہم نے خدا تعالیٰ کے لئے کام کرناہے تو پھر چھوٹوں اور بڑوں کاخیال نہیں کرنا چاہئے- انبیاء کی جماعتوں میں کمزور بھی ہوتے ہیں‘ منافق بھی ہوتے ہیں اوراگر ہم کسی دینی کام میں منافقوں کی وجہ سے پیچھے ہٹتے ہیں تو ہم منافقت کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں- اس قسم کے بہانے ڈھونڈ کر ہمیں ایک دوسرے کی ہمدردی اور تبلیغ کے کام سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے- سب مومن آپس میں بھائی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ امداد اور تعاون کیا جائے- امیروں کو خیال رکھنا چاہئے کہ غریب ہمارے بھائی ہیں اور غریب اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جس نے زیادہ حصہ نہ لیا وہ اعلیٰ نہیں ہوتا- غریب یہ کہتے ہیں کہ امیر لوگ ہم کو ذلیل سمجھتے ہیں حالانکہ پہلے جب کوئی اپنے آپ کو ذلیل سمجھتا ہے تو تبھی یہ دوسروں کے متعلق یہ خیال کرتا ہے حالانکہ اپنے آپ کو ذلیل سمجھنا خود اپنے نفس کی کمزوری ہے اور یہ نفس کے بہانے ہیں- تبلیغ بہت بڑی چیز ہے- ہر شخص جماعت میں سے اگر یہ سمجھے کہ ہم ایک عرصہ میں دگنے ہو جائیں گے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ ہم کیوں کامیاب نہ ہوں- باوجودکمزور ہونے کے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا رعب ہے- جو مصیبت آتی ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ احمدیوں کی طاقت کی وجہ سے ہے- اوراسی کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا-نصرت بالرعب ۱؎ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ لوگ اب تسلیم کرتے ہیں کہ احمدیوں کے پاس بڑی طاقت ہے- جو لوگ ڈرپوک تھے اور کہتے تھے کہ احمدیت سچی تو تھی مگر ہم لوگوں کے ڈر کی وجہ سے نہیں مانتے تھے اب ان میں طاقت پیدا ہو گئی ہے- اس سے فائدہ اٹھا کر اب کمزوروں کو جرات دلانی چاہئے