انوارالعلوم (جلد 12) — Page 363
انوار العلوم جلد ۱۳ ۳۶۳ نبی کریم میں کے پانچ عظیم الشان اوصاف ایک سہیلی نے کہا آپ روزہ سے تھیں افطاری کے لئے چار آنہ ، آنہ رکھ لیتیں تو کیا ! تو کیا اچھا ہو تا۔ آپ ا نے جواب دیا کہ تم نے پہلے کیوں نہ یاد دلایا۔ اگر آنحضرت میں کی محبت کا نقش اس قدر گہرا نہ ہوتا تو آپ روپیہ ملنے پر ضرور یہ طریق بدل دیتیں مگر حالت یہ تھی کہ ایک دفعہ آپ میدہ کی روٹی کھانے لگیں۔ نرم نرم چھلکے تھے مگر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کسی ہمجولی نے دریافت کیا تو فرمایا۔ میں اس لئے روتی ہوں کہ اگر آج آنحضرت ملی ہم زندہ ہوتے تو یہ نرم نرم پھلکے انہیں کھلاتی۔ ۱۲ غور کرو، یہ کتنا گہرا نقش ہے۔ کتنے ہیں جو وفات کے بعد مرنے والوں کو اس طرح یاد رکھتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بتاتا ہے کہ آپ کا دل آنحضرت مسلم کی محبت سے لبریز تھا۔ بعض بد باطن کہتے ہیں آپ نعوذ بالله عیاش تھے۔ کیا عیاش لوگوں کی بیویاں ان کی موت کے بعد اسی طرح ان کے ساتھ اظہار محبت کرتی ہیں ؟ وہ تو نفرت اور حقارت سے انہیں دیکھتی ہیں اور ان کی موت کو اپنی نجات سے تعبیر کرتی ہیں۔ غرضیکہ شادی کے زمانہ میں بھی آپ نے نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہم دیکھتے ہیں۔ آپ بیویوں سے ایسا برتاؤ کرتے جو محبت کے ازدیاد کا موجب ہو۔ حتی کہ پیالہ کی جس جگہ منہ لگا کر وہ پانی پیتیں بعض اوقات آپ بھی وہیں ہونٹ لگا کر پیتے اور فرماتے یہ محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ ۱۳ اگر کسی اونچی جگہ چڑھنا ہوتا ہو تا تو آپ آ۔ اپنے گھٹنے کا سہارا دیتے۔ لاء یورپ کے وہ نادان لوگ جو آج اعتراض کرتے اور کہتے ہیں عورت کی عزت کے لئے یہ ضروری ہے ، جب ہے، جب رسول کریم ملی ام سے ایسی بات بات دیکھتے ہیں تو اسی کی بناء پر آپ کو عیاش کہہ دیتے ہیں۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں اولاد ہو جانے کی حالت میں لوگ دوسروں کی خدمت اور ان کے تھے کہ ایک حقوق کی حفاظت سے غا غافل ہو جاتے ہیں۔ ۔ مگر آپ اس پہلو میں بھی ! بھی اس قدر محتاط تھے دفعہ صدقہ کی کھجوریں آئیں۔ حضرت امام حسن اس وقت بچہ تھے آپ نے کھجور منہ میں ڈالی مگر آپ نے منع فرما دیا اور کہا یہ غربیوں کا حق ہے۔ هله غور کرو۔ آج کتنے لوگ ہیں جو اس قدر احتیاط کرتے ہیں۔ بچوں کی بات پر عام طور پر کہہ دیا جاتا ہے نادان بچہ ہے۔ مگر آپ کی بڑھاپے کی اولاد ہے اور زیادہ نہیں صرف ایک کھجور منہ میں ڈال لیتا ہے مگر آپ اس کے منہ سے نکال لیتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں یہ غریبوں کا حق ہے۔ فاطمہ آپ کی پیاری بیٹی تھیں اور