انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 361

۳۶۱ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف غربت میں بھی انسان کے اندر کیسی اخلاقی جرات ہونی چاہئے- جب آپ نے حضرت خدیجہ سے شادی کی تو اس وقت کوئی مال آپ کے پاس نہ تھا- بعض لوگوں نے روایت کی ہے کہ آپ کے والد نے پانچ بکریاں اور ایک دو اونٹ آپ کے لئے چھوڑے اور بعض اس سے بھی انکار کرتے ہیں- بہرحال اگر ورثہ میں آپ کو کوئی جائداد ملی بھی تو وہ ایسی قلیل تھی کہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے- مگر پھر بھی آپ کی طبیعت میں حرص بالکل نہ تھی اور سیر چشمی کمال کو پہنچی ہوئی تھی- اپنے حالات کے لحاظ سے آپ کے لئے حرص کی گنجائش تھی مگر آپ کا لقب امین تھا اس وقت بھی ممکن ہے یہاں لاہور میں ہی سینکڑوں ایسے لوگ ہوں جن کے پاس اگر کوئی امانت رکھی جائے تو وہ اسے واپس کر دیں گے مگر دنیا انہیں امین نہیں کہتی کیونکہ امین وہی کہلا سکتا ہے جو خطرناک امتحانوں سے گزر کر بھی امانت کو قائم رکھے- اگر ایک شخص کے پاس لاکھ روپیہ ہے تو ہمارا ایک ہزار اگر وہ واپس کر دے تو یہ کوئی خوبی نہیں مگر رسول کریم ﷺ کو سخت مالی امتحانوں سے گزرنا پڑتا تھا اور باوجود اس کے آپ کے پاس سب کی مالی و جا نی امانتیں محفوظ رہتی تھیں اور آپ نے اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ آپ کی طبیعت میں بے حد استغناء تھا- حتی کہ آپ کی قوم نے آپ کو امین کا خطاب دے دیا- آپ کو دولت بھی ملی اور لاکھوں روپیہ آپ کے پاس آیا مگر آپ نے اپنی حالت ویسی ہی رکھی- ایک دفعہ صدقات کا کچھ روپیہ آیا اور اسے تقسیم کرتے ہوئے ایک دینار کسی کونے میں گر گیا آپ کو اٹھانے کا خیال نہ رہا- نماز پڑھانے کے بعد جب یاد آیا تو لوگوں کے اوپر سے پھاندتے ہوئے جلدی سے گھر گئے- صحابہ نے دریافت کیا یارسول اللہ! کیا بات تھی- آپ نے فرمایا کہ اس طرح ایک دینار رہ گیا تھا اور میں چاہتا تھا جس قدر جلدی ممکن ہو اسے تقسیم کروں-۹؎ دولت ہونے کے باوجود آپ غریبوں کے ساتھ مل کر رہتے تھے- صحابہ کو شکایت تھی کہ بعض ان میں سے امیر ہیں- آپ نے ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا- کیا تمہیں پسند نہیں کہ میں اور تم ایک گروہ میں ہوں-۱۰؎ تو مال و دولت کے باوجود آپ نے ایسی سیرچشمی اور استغناء ظاہر کی کہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ جو کچھ آتا آپ خدا کی راہ میں تقسیم کر دیتے تھے حالانکہ گھر کی حالت یہ تھی کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کئی کئی مہینے ہمارے گھروں میں کھانا نہیں پکتا تھا- اونٹی کا دودھ پی لیتے یا کھجوریں کھا لیتے تھے- یا کوئی ہمسایہ کھانا یا دودھ بھیج دیتا تو وہ استعمال کر لیتے تھے اور کبھی فاقہ سے ہی رہتے تھے اور یہ اس زمانہ کی حالت ہے جب