انوارالعلوم (جلد 12) — Page 360
۳۶۰ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ سو گیا تو آپ کی جوانی ایسی پاکیزہ ہے کہ اور کہیں نظر نہیں آتی- بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی کے واقعات عام طور پر معلوم نہیں ہوتے- مگر آپ کی زندگی کے تمام حالات پوری طرح محفوظ ہیں- اس کے بعد ہم آپ کی زندگی کے اخلاقی پہلو اور غرباء کی امداد کو لیتے ہیں تو اس میں بھی آپ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا- مکہ کے بعض اشخاص نے مل کر ایک ایسی جماعت بنائی جو غریب لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرے اور چونکہ اس کے بانیوں میں سے اکثر کے نام میں فضل آتا تھا اس لئے اسے حلف الفضول کہا جاتا ہے- اس میں آپ بھی شامل ہوئے- یہ نبوت سے پہلے کی بات ہے بعد میں صحابہؓ نے ایک دفعہ دریافت کیا کہ یہ کیا تھی؟ آپ سمجھ گئے کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ آپ تو نبی ہونے والے تھے آپ ایک انجمن کے ممبر کس طرح ہو گئے جس میں دوسروں کے ماتحت ہو کر کام کرنا پڑتا تھا- آپ نے فرمایا یہ تحریک مجھے ایسی پیاری تھی کہ اگر آج بھی کوئی اس کی طر ف بلائے تو میں شامل ہونے کو تیار ہوں- ۷؎ گویا غرباء کی مدد کے لئے دوسروں کی ماتحتی سے بھی آپ کو عار نہیں تھی- ایک غریب شخص نے ابوجہل سے کچھ قرضہ لینا تھا اور وہ غریب سمجھ کے ادا نہیں کرتا تھا وہ حلف الفضول کے لیڈروں کے پاس گیا کہ دلوا دو- مگر ابوجہل سے کہنے کی کوئی جرات نہ کرتا تھا- آخر وہ شخص ان ایام میں جب آپ نبوت کے مقام پر فائز ہو چکے تھے آپ کے پاس آیا کہ آپ بھی حلف الفضول کے ممبروں میں سے ہیں‘ ابوجہل سے میرا قرضہ دلوا دیں- یہ وہ زمانہ تھا جب ابوجہل آپ کے قتل کا فتویٰ دے چکا تھا اور مکہ کا ہر شخص آپ کا جانی دشمن تھا آپ فوراً ساتھ چل پڑے اور جا کر ابوجہل کا دروازہ کھٹکھٹایا- اس نے پوچھا کون ہے؟ آپ نے فرمایا محمدﷺ-~ وہ گھبرا گیا کہ کیا معاملہ ہے فوراً آ کر دروازہ کھولا اور پوچھا کیا بات ہے- آپ نے فرمایا- اس غریب کا روپیہ کیوں نہیں دیتے- اس نے کہا ٹھہریئے ابھی لاتا ہوں اور اندر سے روپیہ لا کر فوراً دے دیا- لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ یہ ڈر گیا ہے- مگر اس نے کہا میں تمہیں کیا بتاؤں کہ کیا ہوا- جب میں نے دروازہ کھولا تو ایسا معلوم ہوا کہ محمدﷺ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں اور بائیں دو دیوانے اونٹ کھڑے ہیں جو مجھے نوچ کر کھا جائیں گے- ۸؎ کوئی تعجب نہیں یہ معجزہ ہو- مگر اس میں بھی شک نہیں کہ صداقت کا بھی ایک رعب ہوتا ہے غرضیکہ ایک غریب کا حق دلوانے کے لئے آپ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا اور اس طرح اپنے عمل سے دکھا دیا کہ