انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 353

۳۵۳ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف کوئی خوبی نہیں- پس ہندوستان کیلئے وہ دن بہت بابرکت ہوگا جب لوگ دوسرے مذاہب کی برائیاں دیکھنے کی عادت کو ترک کر کے خوبیاں دیکھنے کے عادی ہو جائیں گے- بعض دوست یہ اعتراض کرتے ہیں کہ میرا کوئی حق نہیں کہ ایسی تحریک کروں کیونکہ میں آنحضرت ﷺ کے محبوں میں سے نہیں ہوں- میں سمجھتا ہوں رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب ہونے والوں کو حضور ہی کا یہ جملہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ھل شققت قلبہ ۱؎کیا تم نے دل چیر کر دیکھ لیا ہے؟ دنیا میں اس سے زیادہ ظلم کوئی نہیں ہو سکتا کہ کسی کی طرف وہ باتیں منسوب کی جائیں جنہیں وہ خود تسلیم نہ کرتا ہو- لیکن اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ صحیح ہے تو رسول کریم ﷺ نے یہ بھی تو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت بعض وقت فاسق سے بھی لے لیا کرتا ہے-۲؎ اگر ایک دہریہ آ کر ان باتوں کی تعریف کرے جنہیں میں مانتا ہوں تو اس کے معنی سوائے اس کے اور کیا ہو سکتے ہیں کہ یہ نور اس قدر بلند ہو چکا ہے کہ غیر بھی اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں- پس اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ میرے دل میں رسول کریم ﷺ کی محبت نہیں تو بھی میرے منہ سے تعریف سن کر خوش ہونا چاہئے کہ غیر بھی رسول کریم ﷺ کی خوبیوں کے معترف ہیں- خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ان اوصاف کو جو غیروں نے بیان کئے روایت کیا ہے- چنانچہ آپ جب شام گئے تو ایک یہودی نے آپ کی تعریف کی- آپ نے خود اس کا ذکر کیا ہے اور اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ جو ہمارا ہم خیال نہیں وہ رسول کرم ﷺ کی تعریف ہی نہ کرے تو اس طرح خود آپ کی ذات پر اعتراض کا دروازہ کھل جاتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنی ہونگے کہ صرف وہی تعریف کرے جو ایمان لا چکا ہو لیکن یہ کسی طرح بھی صحیح نہیں- اس طرح دوسری اقوام کے نیک طینت لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور جب منہ بند ہو جائیں تو دلوں پر بھی مہر لگ جایا کرتی ہے- میرا ارادہ تھا جب میں بیمار نہیں تھا کہ آج بیان کروں رسول کریم ﷺ نے سلطنت اور بادشاہت کا کیا انتظام تجویز فرمایا لیکن بیماری کی وجہ سے حالت ایسی ہو گئی ہے کہ اتنا لمبا مضمون بیان نہیں کر سکتا اس لئے اختصار کے ساتھ آپ کے وہ چند ایک کیریکٹر جو قرآن کریم کی ایک آیت میں بیان کئے گئے ہیں‘ بیان کروں گا- اس میں اگرچہ مختلف مضامین آ گئے ہیں مگر چونکہ میں اجمالی رنگ میں بیان کروں گا‘ اس لئے مضمون اتنا لمبا نہ ہو سکے گا- قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے- لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز