انوارالعلوم (جلد 12) — Page 341
۳۴۱ حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسول ﷺ دوسرا طریق دوسرے ایک ناجائز طریق دنیا میں غلامی کا یہ تھا کہ غلام بنانے کے لئے اپنی ہمسایہ قوم پر حملہ کر دیتے یا مال و دولت لوٹنے کے لئے حملے کرتے تھے اور ساتھ ہی آدمیوں کو غلام بنا لیتے تھے- اسلام نے اس کو بھی رد کیا اور یہ قاعدہ بنا دیا کہ کسی قوم کو دوسری قوم پر اس وقت تک حملہ کرنے کا حق نہیں جب تک کہ وہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس کے بعض حقوق اس قوم نے تلف کر دیئے ہیں اور جب تک کہ ہمسایہ قوموں کو اس بات کا موقع نہ دے دیا جائے کہ وہ دونوں فریق میں اصلاح کی کوشش کریں لیکن ایسی جنگ کے بعد بھی غلام بنانے کی اجازت نہیں- صرف اس بات کی اجازت ہے کہ جس حق پر لڑائی تھی وہ اس کو دلا دیا جائے- یا جو اخراجات وغیرہ اس پر ہوئے ہیں وہ اس کو کلی طور پر یا ان کا کچھ حصہ دلا دیا جائے- چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے-: و ان طائفتن من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما فان بغت احدھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفی الی امر اللہ فان فائت فاصلحوا بینھما بالعدل واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین۲؎ اور اگر مومنوں سے دو قومیں آپس میں لڑنے پر آمادہ ہوں تو ان میں صلح کرا دو- پھر اگر اس صلح کے بعد بھی ایک دوسری کے خلاف زیادتی سے کام لے تو جو قوم زیادتی کرتی ہے اس کے خلاف سب قوموں کو مل کر جنگ کرنی چاہیئے- یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے- پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو دوبارہ ان میں عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرا دو- اللہ تعالیٰ یقیناً انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے- اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے دنیوی جھگڑوں میں یونہی حملہ کر دینے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ سب سے پہلے دوسری اقوام کو بیچ میں ڈال کر صلح کرنے کا حکم دیا ہے- اگر کوئی قوم دوسری قوم کا حق دینے کے لئے تیار نہ ہو تو پھر سب قوموں کو اس کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا ہے اور لڑائی کا انجام پھر صلح پر رکھا ہے- جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ غلامی یا دوسرے کے حقوق کے تلف کرنے کی صورت با لکل ناممکن ہو جائے گی- یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ اس جگہ مومنوں کے متعلق احکام ہیں- مومنوں کا لفظ صرف اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ مومن ہی قرآن کریم کے احکام کو مانیں گے- ورنہ اصولی طور پر دنیا کی سب قومیں ان احکام پر عمل کر سکتی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں-