انوارالعلوم (جلد 12) — Page 335
انوارا العلوم میلاد ۱۲ ۳۳۵ حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسول میں اور پہنتے ہیں، اس کو پہناتے ہیں۔ پھر بچہ کا بچپن کا زمانہ سمجھ کا زمانہ نہیں ہوتا۔ اگر اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس کے لئے اور دنیا کے لئے نقصان کا موجب ہو گا۔ اس کے ماں باپ اسے جن باتوں کے لئے مجبور کرتے ہیں وہ خود اس کے فائدہ کے لئے ہوتی ہیں۔ تو میں کہوں گا کہ معلوم ہوا، غلامی اُسی وقت بُری ہوتی ہے جب اپنے میں اور غلام میں کوئی فرق کیا جائے اور جب غلام کے فائدہ کا پروگرام مد نظر نہ رکھا جائے، جب غلام کی عقل پختہ اور فہم صحیح ہو مگر باوجود اس کے اس کو مجبور کیا جائے، ورنہ بچے اور ماں باپ کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے ! وئے بغیر قید کے غلامی کو بُرا نہیں کہا جا سکتا۔ تیسری قسم کی غلامی کی مثال ملازمتوں میں ملتی ہے۔ ۔ ملازمتوں میں بھی ملازموں کی غلامی انسان بعض دفعہ یا بعض اعمال میں گلی طور پر دوسرے کے ماتحت ہوتا ہے۔ یا بعض اوقات میں کلی طور پر دوسرے کے تابع ہوتا ہے۔ مگر اس کا نام کوئی غلامی نہیں رکھتا حالانکہ ملازمت اور غلامی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ شائد یہ کہا جائے کہ ملازم اپنی مرضی سے دوسرے کی ملازمت اختیار کرتا ہے اس لئے وہ غلام نہیں ہوتا۔ اور غلام پر جبراً قبضہ کیا جاتا ہے اس لئے ہم اس کو ملازم سے الگ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ امتیاز صحیح نہیں۔ اس لئے کہ اس امتیاز کے ماتحت یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اپنی مرضی سے فروخت کر دے تو ایسے شخص کا غلام بنانا جائز ہے لیکن اگر یہ بھی ناجائز ہے تو ماننا پڑے گا کہ مرضی کی غلامیاں بھی غلامیاں ہی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ غلام اور ملازم میں یہ فرق ہے کہ نوکر اپنی مرضی سے ملازمت چھوڑ سکتا ہے لیکن غلام ایسا نہیں کر سکتا۔ تو پھر ہمیں یوں کہنا پڑے گا کہ وہ غلامی بری ہے جس کا طوق اپنی مرضی سے اُتارا نہ جاسکے ۔ لیکن وہ غلامی حقیقی نہیں ہے جس کا طوق ہم اپنی مرضی سے اپنی گردن سے اُتار سکیں۔ بہر حال اوپر کی مثالوں سے یہ ضرور ثابت ہو غلامی تمدن انسانی کا جُزوِ لا ینفک ہے گا کہ غلامی تمدن انسانی کا ایک جُزْوِ لا ینفک ہے اور یہ کہ غلامی کا مفہوم اس وقت تک دنیا میں نہایت مبہم رہا ہے۔ اگر ہم اس کی تشریح کریں تو ہمیں دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑے گی۔ یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا میں غلامی موجود ہے اور موجود رہے گی اور اس کے بغیر دنیا کا گزارہ چل نہیں سکتا اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ غلامی بھی دنیا کی اور چیزوں کی طرف بعض حالات میں اچھی ہوتی ہے اور