انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 334

۳۳۴ حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسول ﷺ جُزئی غلامی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کا سب کارخانہ اس جزئی غلامی پر قائم ہے- بچہ جس وقت سکول میں جاتا ہے‘ سکول کے نظام کے ماتحت ہوتا ہے- اس نظام کے قائم کرنے میں اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی‘ اس کے اوقات کے متعلق اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی‘ اس کے استادوں کے انتخاب میں اس سے کوئی رائے نہیں لی جاتی‘ اگر وہ اس نظام کو توڑتا ہے تو اسے بدنی سزا تک بھی دی جاتی ہے- اب اس بچہ میں اور ایک غلام میں کیا فرق ہے- یہی نہ کہ غلام چوبیس گھنٹے کا غلام ہوتا ہے اور یہ صرف پانچ چھ گھنٹے کے لئے غلام بنتا ہے- اور یا یہ فرق ہے کہ غلام کی خدمات کا نفع دوسرا شخص اٹھاتا ہے اور اس طالب علم کی خدمت کا نفع خود اسی کو پہنچتا ہے- مگر جبر اور نظام کی اندھا دھند پابندی جو غلامی کے مفہوم کا جزو اعلیٰ ہے‘ وہ یہاں بھی موجود ہے- غلامی کی تمام صورتیں بُری نہیں پس ہم اس نظارہ کو دیکھ کر یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ سارے وقت کی غلامی اور وہ غلامی جو دوسرے کے فائدہ کیلئے ہو بری ہے لیکن وہ غلامی جو عارضی ہو اور اس کا فائدہ خود ہم کو پہنچتا ہو‘ وہ بری نہیں- لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ غلامی اپنی ذات میں تمام صورتوں میں بری ہے- بچہ کی غلامی لیکن طالب علم سے بھی بڑھ کر ہم کو ایک اور غلامی معلوم ہوتی ہے اور وہ وہ غلامی ہے جو بچوں سے ماں باپ کراتے ہیں- ہر بچہ اپنی جوانی کے زمانہ تک کلی طور پر اپنے ماں باپ کی مرضی کے تابع ہوتا ہے- اگر کماتا ہے تو اس کے مالک اس کے ماں باپ ہوں گے‘ اگر وہ گھر کے کام کاج میں مدد دیتا ہے تو اس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاتی‘ گھر کے نظام میں اس کی کوئی آواز نہیں ہوتی‘ کھانے‘ پینے‘ پہننے کے متعلق وہ اپنے ماں باپ کا تابع ہوتا ہے‘ اس کی آئندہ زندگی کی داغ بیل ڈالنے کے لئے اس سے کوئی رائے نہیں پوچھی جاتی‘ اس کے ماں باپ ہی اس کے لئے ایک پروگرام بناتے ہیں اور اس پر اسے چلاتے ہیں- غرض کیا اطاعت کے لحاظ سے‘ کیا حریت ضمیر کے لحاظ سے‘ کیا ملکیت کے لحاظ سے اور کیا آزادی اعمال کے لحاظ سے‘ ہر انسان دس بارہ سال کی عمر تک کلی طور پر اپنے ماں باپ کے ماتحت ہوتا ہے اور اس میں اور ایک غلام میں کوئی فرق نہیں ہوتا- کونسی غلامی بُری ہوتی ہے اگر کوئی شخص کہے کہ بچہ کو ماں باپ نہایت پیار اور محبت سے رکھتے ہیں جو خود کھاتے ہیں‘ اس کو کھلاتے ہیں- جو خود