انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 312

۳۱۲ دنیا میں ترقی کرنے کے گر ہوتا ہے اور وہ کہہ اٹھتا ہے- جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا غور کرنا چاہئے جو چیز بھی انسان کے پاس سے جاتی ہے وہ آئی کہاں سے تھی- ذرا اپنی حیثیت کو تو دیکھو وہ کونسی چیز ہے جسے اپنی کہہ سکتے ہو- انسان کہتا ہے میری بیوی ہے مگر وہ کہاں سے آئی‘ بچے جسے اپنے کہا جاتا ہے کہاں سے آئے ہیں- اسی طرح مکان‘ زمین اور سب دوسری اشیاء جنہیں اپنی سمجھا جاتا ہے کہاں سے آتی ہیں؟ اگر ان چیزوں کی حقیقت پر غور کیا جائے تو باسانی معلوم ہو جائے گا کہ یہ چیزیں انسان کی نہیں‘ بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے موہبت اور عطیہ ہیں اور عطیہ دینے والے کا حق ہے کہ جب چاہے واپس بھی لے لے- بلکہ عطیہ بھی اسے کہتے ہیں جو کبھی واپس نہ لیا جائے- مگر دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے‘ وہ آخر لے لیا جاتا ہے- اس سے معلوم ہوا دنیا میں انسان کو حقیقی عطیہ بھی نہیں ملتا بلکہ تمام اشیاء عاریتا استعمال کے لئے دی جاتی ہیں اور اس طرح چیز دینے والے کا حق ہوتا ہے کہ جب چاہے‘ واپس لے لے- تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے مایعبوا بکم ربی لولا دعاوکم یعنی تم اپنی ہستی کو سمجھتے کیا ہو- آخر انسان ہے کیا چیز کہ خدا تعالیٰ اس کی پرواہ کرے- دنیا میں جو چیز بھی ہے اس کی انتہاء خدا تعالیٰ پر ہی جا کر ہوتی ہے- جیسا کہ فرمایا- الی ربک منتھھا ۱؎یعنی کوئی چیز اور کوئی نفس ایسا نہیں جس کی کڑی خدا تعالیٰ پر جا کر نہ ختم ہوتی ہے اور جب ہر چیز کی انتہاء خدا تعالیٰ پر ہے تو پھر اگر خدا تعالیٰ انسان کو خود ہی بطور احسان نہ بلائے تو انسان چیز کیا ہے کہ اس کی پرواہ کرے-لولادعاوکم کے دو معنی ہیں- یعنی اگر خدا تعالیٰ تم کو نہ پکارے اور یہ کہ اگر تم اس کو نہ پکارو- اگر پہلے معنی لئے جائیں- تو اس صورت میں اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ اگر اس نے اپنی طرف سے یہ لازم نہ کر لیا ہو کہ میں تمہیں پکاروں گا یعنی بڑھاؤں گا اور ترقی دوں گا‘ تو تم کچھ نہیں کر سکتے- اس نے خود بطور احسان اپنے پر یہ واجب کر رکھا ہے وگرنہ انسان کا کوئی حق نہیں- دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری کیا پرواہ ہے اگر تم عاجزی اور انکساری کے ساتھ اس کے آگے جھک کر یہ نہ کہو کہ ہمارا کوئی حق تو نہیں اگر تو احسان کر دے تو تیری ذرہ نوازی ہے-