انوارالعلوم (جلد 12) — Page 311
دنیا میں ترقی کرنے کے مگر ۳۱۱ انوا را العلوم جلد ۱۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ دنیا میں ترقی کرنے کے گر ( فرموده ۱۲ ستمبر ۱۹۳۱ء بمقام مسجد احمد یہ سیالکوٹ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ ابھی ایک دوست نے قرآن کریم کا ایک رکوع تلاوت کیا ہے جس کی آخری آیت یہ ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ لا یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اے رسول تو ان لوگوں کو میری طرف سے یہ پکار کر سنا دے کہ تمہارے رب کو تمہاری پر واہ کرنے کی کیا ضرورت ہے اگر تمہاری طرف سے دعا کا سلسلہ جاری نہ ہو۔ انسان اگر اپنی ہستی پر غور کرے تو آسانی سے معلوم کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ عام طور پر بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ کہ ہمار ا نماز پڑھنا هنا صدقہ دینا زکوة ادا ۃ ادا کرنا حج کرنا خدا تعالیٰ پر احسان ہے۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے بعض نادان جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو کہتے ہیں معلوم نہیں خدا نے ہمیں کیوں مصیبت میں ڈالا ہم تو نمازیں پڑھتے اور دوسرے مذہبی احکام پر عمل کرتے ہیں۔ گویا وہ اپنے دل میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان سے بدسلوکی کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے ۔ کسی شخص کا بیٹا مر گیا اور اس کا ایک دوست تعزیت کیلئے اس کے پاس گیا تو وہ چیخ مار کر رو پڑا اور اس سے کہنے لگا خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔ گویا اس کے خیال میں اس کا کوئی حق خدا تعالیٰ نے مار لیا تھا۔ مگر سوچنا چاہئے وہ کو نسا حق ہے جو بندہ نے خدا تعالیٰ پر قائم کیا ہے۔ مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تقویٰ و طہارت پر فخر کیا کرتے ہیں وہ تو کسی تکلیف کے موقع پر چلا اُٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم کیا لیکن ہندوستان کا وہ شرابی شاعر جو دین سے بالکل غافل تھا ایک سچائی کی گھڑی میں باوجود شراب کا عادی ہونے کے خدا تعالیٰ کا الہام اس کے دل پر نازل XXXXXXXXXXXX XXXXXXXXXXXXXXX